انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 59

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں صلى الله ہیں لیکن اُن کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں۔یہ سن کر صحابہ جن کو آپ کے جذبات اور احساسات کو پورا کرنے کی اتنی تڑپ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا جذ بہ اور چھوٹے سے چھوٹا احساس بھی ایسا نہ رہ جائے جو پورا نہ ہو وہ اپنے گھروں کی طرف دوڑے اور اپنی عورتوں سے جا کر کہا بس اب تم اپنے عزیزوں کو رونا بند کر دو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر جا کر مزہ کا ماتم کرو۔اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تھکے ہوئے تشریف لائے تھے آپ آرام فرمانے لگے۔حضرت بلال نے عشاء کی اذان دی مگر یہ خیال کر کے کہ آپ تھکے ہوئے آئے ہیں آپ کو نہ جگایا جب ثلث رات گذرگئی تو انہوں نے آپ کو نماز کے لئے جگایا۔آپ جب بیدار ہوئے تو اُس وقت عورتیں ابھی تک آپ کے مکان پر حضرت حمزہ کا نوحہ کر رہی تھیں۔آپ نے فرمایا یہ کیا ہو رہا ہے؟ عرض کیا گیا يَا رَسُولَ الله علی مدینہ کی عورتیں حضرت حمزہ کی وفات پر رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا للہ تعالی مدینہ کی عورتوں پر رحم کرے انہوں نے میرے ساتھ ہمددری کا اظہار کیا ہے۔پھر فرمایا مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ انصار کو مجھ سے بہت زیادہ محبت ہے۔ساتھ ہی فرمایا اس طرح نوحہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نا پسندیدہ امر ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ہماری قوم کی یہ عادت ہے اور اگر ہم اس طرح نہ روئیں تو ہمارے جذبات سرد نہیں ہو سکتے آپ نے فرمایا میں رونے سے منع نہیں کرتا ہاں عورتوں سے کہہ دیا جائے کہ وہ منہ پر تھپڑ نہ ماریں اپنے بال نہ نو چیں اور کپڑوں کو نہ پھاڑیں اور اگر یوں رقت کے ساتھ رونا آئے تو بے شک روئیں۔ان باتوں سے آپ کی اخلاقی حالت کا پتہ چلتا ہے کہ باوجود زخمی اور تکلیف میں ہونے کے آپ کو دوسروں کے احساسات اور جذبات کا کتنا احترام تھا۔پھر تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے اُحد سے واپس آ کر حضرت فاطمہ کو اپنی تلوار دی اور کہا اس کو دھو دو آج اس تلوار نے بڑا کام کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ کی یہ بات سن رہے تھے آپ نے فرمایا علی! تمہاری ہی تلوار نے کام نہیں کیا اور بھی بہت سے تمہارے بھائی ہیں جن کی تلواروں نے جو ہر دکھائے ہیں۔آپ نے چھ سات صحابہ کے نام لیتے ہوئے فرمایا ان کی تلوار میں تمہاری تلوار سے کم تو نہ تھیں۔تے غرض آپ نے یہ بھی برداشت