انوارالعلوم (جلد 19) — Page 60
انوار العلوم جلد ۱۹ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں نہ کیا کہ آپ کا داماد کوئی ایسی بات کرے جس سے دوسرے صحابہ کے دلوں کو ٹھیس پہنچے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نظر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی پہنچتی تھی اور باوجود یکہ جنگ اُحد کا واقعہ مستقل اثرات کے لحاظ سے اتنا بڑا واقعہ تھا کہ لوگوں کو اس واقعہ کے بعد سخت فکر تھی کہ دشمن اب دلیر ہو جائے گا یا آئندہ کیا ہوگا اور انسان ایسے اوقات میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا مگر آپ نے ہر ایک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور سب کی دلجوئی کی۔آپ نے جب زینب بنت جحش کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور پھر فرمایا دیکھو ایک عورت کا اپنے محبت کرنے والے خاوند کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے تو اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ مردوں کو چاہئے کہ وہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کیا کریں اور معمولی معمولی باتوں پر اُن کو مارنے اور کوٹنے نہ لگ جایا کریں۔جب ان کی عورتیں اپنے عزیز واقارب سے جدا ہو کر ان کے پاس رہتی ہیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اعزاز کیا جائے نہ کہ بات بات میں ان کے ساتھ جھگڑ ا فساد کیا جائے۔آپ کے یہ فرمانے سے ایک طرف تو زینب بنت جحش کی دلجوئی ہوگئی اور دوسری طرف آپ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی بھی تلقین فرما دی۔اسی طرح جب آپ نے یہ دیکھا کہ مدینہ کی عورتیں اپنے مرنے والوں کا نوجہ اور ماتم کر رہی ہیں تو آپ نے اس خیال سے کہ مہاجرین اور حضرت حمزہ کے رشتہ دار یہ خیال نہ کریں کہ ہمارا یہاں کوئی نہیں ہے اس لئے ان کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے آپ نے فرمایا آج حمزہ کو رونے والا کوئی نہیں۔اور پھر جب مدینہ کی عورتیں حضرت حمزہ کا ماتم کرنے لگ گئیں تو آپ نے منع فرما دیا کہ اس طرح ماتم کرنا جائز نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر واقعہ میں آپ کا یہی خیال ہوتا کہ حضرت حمزہ کا ضرور ماتم کیا جائے تو آپ بعد میں منع نہ فرماتے۔آپ نے جب حضرت حمزہ کی وفات پر کسی کے نہ رونے پر افسوس کا اظہار فرمایا اُس وقت بھی آپ کا جذ بہ صرف دلجوئی کا تھا۔اور جب آپ نے رونے والوں کو منع فرمایا اُس وقت بھی آپ کا جذبہ دلجوئی کا ہی تھا کیونکہ آپ نے ان عورتوں کو رونے سے روکا بھی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور یہ پھر فرمایا مجھے تو پہلے ہی معلوم تھا کہ انصار کو مجھ سے زیادہ ہمدردی ہے اور یہ کہنے سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ وہ رونے سے منع کرنے پر بُرا نہ