انوارالعلوم (جلد 19) — Page 58
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں افسوس ہے کہ تمہارا جوان بیٹا عمرو بن معاد لڑائی میں شہید ہو گیا ہے۔وہ بڑھیا جو آپ کی شکل دیکھنے کے لئے بے تاب ہو رہی تھی اُس نے اپنا منہ اوپر اٹھایا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے آپ کے چہرے کو دیکھا اور عرض کیا يَا رَسُولَ الله! جانے بھی دیجیے آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں جب آپ سلامت ہیں تو باقی ساری مصیبتیں میں نے بھون کر کھالی ہیں۔ہے ان واقعات پر غور کرو اور دیکھو کہ آپ کو کتنا زیادہ احساس تھا کہ جس کسی کو تکلیف پہنچتی ہے اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے اس کے بعد آپ نے اس بڑھیا سے فرمایا تم بھی خوش ہو اور دوسری تمام بہنوں کو بھی جن کے رشتہ دار لڑائی میں شہید ہو گئے ہیں یہ خوشخبری سنا دو کہ ہمارے جتنے آدمی آج شہید ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے سب کو جنت میں اکٹھا رکھا ہے اور سب نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے خدا! ہمارے پسماندگان کی خبر گیری رکھیو۔اس کے بعد آپ نے دعا کی کہ اے خدا! اُحد کے شہیدوں کے پسماندگان کے لئے اچھے خبر گیر پیدا فرما۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ کس طرح آپ نے مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی اُحد کے شہیدوں کے پسماندگان کی دلجوئی فرمائی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور باوجود اس کے کہ آپ زخمی ہو چکے تھے، آپ کے عزیز ترین رشتہ دار شہید ہو گئے تھے اور آپ کے عزیز ترین صحابہ فوت ہو گئے تھے آپ برا بر قدم بقدم مدینہ کے لوگوں کی دلجوئی فرما رہے تھے آپ کو اپنی تکلیف کا ذرہ بھی احساس نہ تھا آپ کے سوا ایسا کوئی شخص نہیں ہو سکتا جو اتنی تکلیفوں ، اتنے دکھوں اور اتنی مصیبت کے وقت دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے۔ایسے وقت میں تو لوگ کسی کے ساتھ بات کرنے کے بھی روا دار نہیں ہوتے چہ جائیکہ وہ کسی کے ساتھ ہمدردی کی باتیں کریں۔جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے تو چونکہ زخموں کی وجہ سے آپ کو نقاہت زیادہ تھی اس لئے صحابہ نے سہارا دے کر آپ کو سواری سے اُتارا۔مغرب کی نماز کا وقت تھا آپ نے نماز پڑھی اور گھر تشریف لے گئے۔مدینہ کی ان عورتوں کو جن کے رشتہ دار جنگ میں شہید ہو گئے تھے اُن کی خبریں پہنچ چکی تھیں انہوں نے رونا شروع کر دیا۔آپ نے جب عورتوں کے رونے کی آوازیں سنیں تو آپ کو مسلمانوں کی تکلیف کا خیال آیا اور آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں پھر آپ نے فرمایا لكِن حَمْزَةَ فَلَا بَوَاكِيَ لَهُ ہمارے چا اور رضائی بھائی حمزہ بھی شہید ہوئے