انوارالعلوم (جلد 19) — Page 549
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۴۹ سیر روحانی (۴) گے، یہ وہ نسخہ ہے جس کو استعمال کر کے دنیا کا ہر مسلمان روحانی دنیا کا ایک چھوٹا مینار بن سکتا ہے مگر افسوس ہے کہ آج مسلمان اس نسخہ کو بُھول چکے ہیں وہ دنیا کی تمام بلندیوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ ترقی کرتے کرتے وہ ایک چھوٹے شیکسپیئر بن جائیں ، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹے ہیگل بن جائیں ، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹے فلسفی بن جائیں، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ اگر سائیکالوجی کا کوئی بہت بڑا ما ہر گزرا ہے تو وہ اس کی نقل میں ایک چھوٹے سائیکالوجسٹ بن جائیں ، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ ایک چھوٹے جیمز یا ایک چھوٹے فرائڈ بن جائیں مگر آج مشرق سے لے کر مغرب تک کسی مسلمان کے دل میں یہ خواہش نہیں پائی جاتی کہ وہ ایک چھوٹا محمد بن جائے حالانکہ ہمارے دل میں سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ خواہ کچھ بھی ہو اور خواہ ہمیں اس کے لئے کوئی بھی قربانی کرنی پڑے ہم ایک چھوٹے محمد بن جائیں۔اپنے روحانی باپ کی نقل کرو بچوں کو دیکھ لو دنیا میں ہر بچہ اپنے ماں باپ کی محبت کی وجہ سے ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جن کی مائیں اپنے بچوں سے تو تلی زبان میں باتیں کرنے کی عادی ہوتی ہیں ان کے بچے بھی اسی رنگ میں بات کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور جن کے باپ باتیں کرتے وقت ہکلاتے ہیں اُن کے بچے بھی رُک رُک کر باتیں کرتے ہیں بلکہ میں نے تو دیکھا ہے کہ اگر باپ کی آنکھ یا ناک یا ہاتھ میں بات کرتے وقت کوئی معمولی سی حرکت بھی ہوتی ہے تو ویسی ہی حرکت بچے کی آنکھ یا ناک یا ہاتھ میں بھی پائی جاتی ہے یا اگر ماں اپنی آنکھ کو ذرا جھپک کر بات کرنے کی عادی ہو تو اس کی بیٹی میں بھی آنکھ کی ویسی ہی جھپک آ جاتی ہے۔غرض بچے اپنے اخلاق اور اپنی عادات اور اپنی زبان اور اپنے لب ولہجہ میں اپنے ماں باپ کی نقل کرتے ہیں اور یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو ماں باپ سے بچوں میں آجاتی ہیں مگر یہ کتنے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل باپ موجود ہے مگر مسلمان اس کی نقل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر دوسرے باپوں کے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں۔کوئی بچہ نادان سے نادان اور پاگل سے پاگل بھی ایسا نہیں ہو سکتا جو اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے بھا گا پھرے۔