انوارالعلوم (جلد 19) — Page 550
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۵۰ سیر روحانی (۴) انسان کے بچہ کو جانے دو گتے بھی ایسا نہیں کرتے۔ایک گننے کو بھی اگر چند دن روٹی کھلاؤ تو وہ اپنے مالک کے گھر کا دروازہ نہیں چھوڑتا لیکن آج مسلمانوں کے دلوں میں اپنے عظیم الشان روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے مگر یہ حکومت وہ دوسروں سے منوانا چاہتے ہیں خود اس حکومت کا جوا اُٹھانے کیلئے تیار نہیں حالانکہ ہزاروں ہزار احکام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ہیں کہ نہ ان کے لئے کسی قانون کی ضرورت ہے نہ آئین کی ضرورت ہے نہ جتھے کی ضرورت ہے۔اللہ اکبر کہا اور نماز شروع کر دی۔کیا اس کے لئے کسی قانون کی ضرورت ہے یا رمضان آیا اور روزے رکھنے شروع کر دیئے کیا اس کے لئے کسی آئین کی ضرورت ہے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا کے چپہ چپہ پر بغیر کسی قانون اور آئین کے قائم کی جاسکتی ہے مگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں۔وہ نعرے لگانا جانتے ہیں وہ منہ کی پھونکوں سے ٹفر مٹانا چاہتے ہیں لیکن عملی رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کیلئے کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔افراد جماعت کو نصیحت میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں میں نے پہلے بھی کئی دفعہ نصیحت کی ہے اور اب پھر کہتا ہوں کہ تمہارا سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ خواہ کتنا ہی چھوٹا سہی مگر بہر حال تم اپنے دائرہ میں چھوٹے محمد بن جاؤ۔جس دن تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو ایک چھوٹا محمد بنانے کی کوشش کرے گا ، جس دن تم اُٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر بن جاؤ گے اور جس دن تمہاری زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی جھلک پیدا ہو جائے گی دنیا سمجھ لے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور تمہارے اعمال اور اخلاق اور کردار کو دیکھ کر اس کے دل میں تمہاری محبت بڑھتی چلی جائے گی۔تم ایک زندہ اور مجسم نمونہ ہو گے تم چلتی پھرتی تبلیغ ہو گے ، تم دنیا کے راہنما اور راہبر ہو گے تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ کی طرف دنیا کو کھینچ کر لانے والے ہو گے اور وہ لوگ بھی آخر تمہارے نمونہ کو دیکھ کر بے تاب ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تک ہم سب سے بڑے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ