انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 591

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۵۹۱ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب ان مقاصد کی تکمیل کیلئے جو خدا تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں قربانی کر رہا ہوں۔مثلاً وہ غریب آدمی جو فاقے کرتا ہے یا وہ غریب آدمی جو ہمیشہ دال روٹی کھاتا ہے اس ذریعہ سے اُسے بھی گوشت مل جاتا ہے۔گویا دل بھی صاف ہوتا ہے ہمسایوں اور غرباء کے لئے محبت کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا حکم بھی پورا ہو جاتا ہے۔پس ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کریں اگر ہم ایسا کریں تو حکومت سے تعلق رکھنے والے اسلامی احکام کی طرف بھی ذمہ دار لیڈروں کو فوراً توجہ پیدا ہو جائے گی اور وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ اسلامی آئین نافذ کریں مگر اس سلسلہ میں بعض اور ا مور بھی ہیں جو ہمیں اپنے مدنظر رکھنے چاہئیں۔تاریخ کے طالب علم اس بات کو جانتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں ہر حکومت مذہبی کہلاتی تھی یا اگر مذہبی نہیں تو نیم مذہبی ضرور کہلاتی تھی۔اگر ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اسلامی حکومت قائم کریں گے تو ضروری ہے اس کا رد عمل پیدا ہو اور ہما را مد مقابل یہ کہنے لگ جائے کہ ہم ہند و حکومت قائم کریں گے۔اِس زمانہ میں جو حکومتیں قائم ہیں یہ بھی ہیں تو مذہبی ، یہ نہیں کہ لوگوں نے مذہب چھوڑ دیا ہے مگر اب دنیا نے پرانے طریق کو چھوڑ کر یہ نیا طریق حکومت اختیار کر لیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہماری حکومت آزاد ہوگی اور اس میں کسی مذہب کی خاص طور پر تائید نہیں کی جائے گی مگر اِس رنگ میں ہم بھی قانون بنادیں اور اعلان کر دیں کہ ہم قرآن کریم اور اسلام کی حکومت تو قائم کریں گے مگر ہندوؤں اور عیسائیوں اور دوسرے غیر مذاہب والوں کو مجبور نہیں کریں گے کہ وہ بھی ان احکام پر عمل کریں تو یقیناً ہم ایک ایسی حکومت قائم کریں گے جو عدل وانصاف کے آئین پر مبنی ہو گی اور جس میں ہر مذہب کے حقوق پوری طرح محفوظ ہوں گے اور یہی اصل اسلامی تعلیم ہے۔آخر اسلام کی یہ کہاں تعلیم ہے کہ ایک ہندو کو بھی اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کیلئے مجبور کیا جائے یا ایک عیسائی کو بھی اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے مجبور کیا جائے۔اسلام ہر غیر مذہب کے پیر و کو اپنے مذہبی احکام کی بجا آوری میں کامل آزادی عطا کرتا ہے لیکن اگر غیر مذاہب والوں سے مسلمان یہ کہیں کہ ہم تم سے اپنی بات منوائیں گے تمہاری بات نہیں سنیں گے تو نہ صرف یہ کہ ہمارا ایسا کہنا اسلام کے خلاف ہوگا بلکہ اس کا رد عمل یہ