انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 590

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹۰ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب کہا اگر سب میں ایک جیسی اچھی باتیں ہیں تو پھر تم مسلمانوں کے ساتھ مل کیوں نہیں جاتے آخر کوئی نہ کوئی فرق ہی ہے جس کی وجہ سے تم ہندو اور ہم مسلمان ہیں۔اگر ان دونوں مذاہب میں ایک جیسی باتیں پائی جاتی ہیں تو یا تو تم مسلمان بن جاتے یا ہم ہندو بن جاتے بہر حال کوئی نہ کوئی فرق ضرور تسلیم کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں اپنا علیحدہ وجود قائم رکھنا چاہئے۔پھر میں نے اس سے کہا کہ کبھی تم نے نماز اور دیگر عبادات کا اپنے مذہب کی عبادات سے مقابلہ کیا اور یہ دیکھا کہ ان میں سے کونسی عبادت زیادہ بہتر ہے؟ اس پر وہ کہنے لگا کہ کعبہ اور دیر تو دونوں دل میں ہیں کسی ظاہری نماز کی کیا ضرورت ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ فرمائیے آپ شادی شدہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔میں نے کہا بچے بھی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ بچے بھی ہیں۔میں نے کہا تم نے کبھی بیوی بچوں کو پیار بھی کیا ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں کیا۔میں نے کہا اصل پیار تو دل کا ہوتا ہے پھر آپ ظاہر میں پیار کیوں کرتے ہیں؟ اسی لئے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ اس پیار کی کوئی ظاہری علامت بھی ہونی چاہئے۔اگر بیوی سے پیار کرنے کیلئے آپ دل کا پیار کافی نہیں سمجھتے ، بچوں سے پیار کرنے کیلئے صرف دل کا پیار کافی نہیں سمجھتے بلکہ انہیں بوسہ بھی دیتے ہیں تو خدا کے پیار کے معاملہ میں یہ آپ کیوں کہتے ہیں کہ کعبہ اور دیر تو دونوں دل میں ہیں کسی ظاہری عبادت کی ضرورت نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ظاہر اور باطن دونوں چیزیں ضروری ہیں دونوں مل کر انسان کو کامل بناتی ہیں اگر یہ دونوں چیزیں ملائی نہ جائیں تو کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔اگر اچھی سے اچھی چیز آپ لوگ ایسے برتن میں لیں گے جو غلیظ ہو گا تو وہ چیز بھی غلیظ ہو جائے گی اور اگر بغیر برتن کے اس چیز کو لیں گے تو وہ صرف گر جائے گی گویا برتن کی بھی ضرورت ہے اور پھر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ برتن اچھا ہو اسی طرح نماز و روزہ اور حج اور زکوۃ اور دوسری عبادتوں کا حال ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ادھر یہ فرمایا ہے کہ قربانی کرو مگر اُدھر یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ قربانی کا گوشت اور خون خدا کو پہنچتا ہے خدا کو صرف دل کا اخلاص پہنچتا ہے مگر باوجود اس کے کہ قربانی کا گوشت اور خون اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتا خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ قربانی نہ کرو بلکہ کہا ہے کہ قربانی تو کرو مگر یہ سمجھتے ہوئے کرو کہ میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے محبوب کی بات پوری کرنے کیلئے اور