انوارالعلوم (جلد 19) — Page 592
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹۲ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب پیدا ہو گا کہ انڈین یونین اس بات پر زور دینے لگ جائے گی کہ ہم ویدوں کی حکومت ہندوستان میں قائم کریں گے اور وہ بھی مسلمانوں سے یہ کہنے لگ جائے گی کہ ہم تم سے اپنی بات منوائیں گے تمہاری نہیں سنیں گے حالانکہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم قرآن کریم کی حکومت دنیا میں قائم کریں گے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہر غیر مذہب کے پیرو کو کامل آزادی حاصل ہوگی اُسے مجبور کر کے اسلامی احکام پر عمل نہیں کرایا جائے گا چنا نچہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں یہ فرمایا ہے کہ یہودی اپنی تعلیم پر عمل کریں اور عیسائی اپنی تعلیم پر عمل کریں۔اس اصولی حکم کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان گورنمنٹ میں ہر مسلمان کو قرآن کریم کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنی پڑے گی اور اس پر انہی احکام کا نفاذ ہوگا جو قرآن کریم نے بتائے ہیں۔عیسائی اگر چاہتے ہیں کہ بائبل پر عمل کریں یا ہندو اگر چاہتے ہیں کہ ویدوں پر عمل کریں تو بے شک کریں انہیں اس میں کامل آزادی ہوگی تو کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنے مذہب کو ہم پر زبردستی ٹھونسا جاتا ہے۔یہ قرآن کریم کا ایک ایسا امتیازی وصف ہے جو اس کی فضیلت کو نہایت واضح طور پر ظاہر کرتا ہے مگر افسوس ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد لوگوں نے اس مسئلہ کو پوری طرح سمجھا نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تمام ڈیموکریٹک اصول اسلام نے ہی دنیا میں قائم کئے ہیں مگر جب مسلمانوں میں تفرقہ وانشقاق پیدا ہو گیا اور خلافت راشدہ کی برکات سے وہ محروم ہو گئے تو نظام خلافت کو قائم رکھنے کی بجائے وہ ملوکیت کی طرف مائل ہو گئے مگر اس لئے نہیں کہ ان کے اندر ایمان نہیں تھا یا وہ سمجھتے تو تھے کہ اسلام ملوکیت کے خلاف تعلیم دیتا ہے مگر پھر بھی وہ اس کو جاری رکھنے پر مصر تھے بلکہ اس لئے کہ وہ دلی یقین کے ساتھ اس امر پر قائم تھے کہ قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ بادشاہت قائم کی جائے۔بے شک ہم کہیں گے کہ وہ اس نظریہ میں غلطی پر تھے مگر وہ سمجھتے یہی تھے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اسلام کی تعلیم اسی کے حق میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی زمانہ اس قسم کا تھا کہ لوگ ڈیموکریٹک رول کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔خلفائے اربعہ تک تو یہ نظام قائم رہا مگر اس کے بعد چونکہ وہ لوگ کم ہو گئے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براه راست فیض حاصل کیا تھا اور نور نبوت سے بعد ہو گیا اس لئے انہوں نے نظام خلافت کے متعلق یہ سمجھ لیا کہ وہ میتھر ڈ آف ری پریز مینٹیشن (Method of representation) تھا جو