انوارالعلوم (جلد 19) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں لیکن غالب خیال کیا تھا؟ غالب خیال یہی تھا کہ وہ اچانک اندھیرے میں جب اندر داخل ہوتے تو حضرت علیؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر مار دیتے۔بہر حال اُس روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دا نحر کے حکم کی تعمیل میں کسی اور کو قربانی کے لئے پیش نہیں کیا بلکہ اپنے داما داور اپنے چچا زاد بھائی کو پیش کیا اور اُس قربانی کے لئے پیش کیا جس میں ان کی جان جانے کا سو فیصدی احتمال تھا یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا۔پھر بعد میں جولڑائیاں ہوئیں ان میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اپنے آپ کو جس رنگ میں قربانی کے لئے پیش کیا ہے وہ بے مثال ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک دن کسی نے صحابہ سے پوچھا کہ آپ میں سے بڑا بہادر کون تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے سب سے بڑا بہا دروہ شخص ہوا کرتا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو۔۱۵ اس لئے کہ دشمن کا سارا زور اس بات پر صرف ہوتا تھا کہ وہ کسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالے اس لئے آپ کے پاس وہی شخص کھڑا ہوسکتا تھا جو نہایت جری اور دلیر ہو۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رہتا تھا اسی لئے صحابہ بار بار اصرار کرتے تھے کہ آپ لڑائی میں نہ جائیں مگر آپ فرماتے ایسا نہیں ہوسکتا۔پھر ا بتدائی زمانہ میں جو لڑائیاں ہوئیں ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چچا شہید ہوئے۔انہی لڑائیوں میں حضرت علی کو متواتر شامل ہونا پڑا۔حضرت جعفر بھی انہی لڑائیوں میں شہید ہوئے۔غرض متواتر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی پیش کی اور بعض دفعہ تو اس طرح پیش کی کہ بڑے بڑے عیسائی مؤرخ بھی حیرت زدہ ہو کر رہ جاتے ہیں اور وہ آپ کی شجاعت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جنگ حنین ایک مشہور جنگ ہے جو مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہوئی۔اس جنگ میں مکہ کے بعض نو مسلم اور کفار بھی شامل ہو گئے تھے۔انہوں نے جنگ میں شامل ہونے کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی اور آپ نے اجازت دے دی مگر چونکہ وہ دین سے پوری طرح واقف نہیں تھے ، جب اسلامی لشکر نکلا تو متکبرانہ انداز میں انہوں نے آگے آگے چلنا