انوارالعلوم (جلد 19) — Page 454
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۴ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اس پر کس طرح عمل کیا۔سب سے پہلی ذمہ داری رسول کریم ﷺ پر تھی اور آپ ہی اس کے اولین مخاطب تھے اس لئے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر کا کیا نمونہ پیش کیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب مکہ میں مسلمانوں پر مظالم ہوئے تو صحابہ کو آپ نے اجازت دے دی کہ وہ ہجرت کر کے چلے جائیں۔مگر جب آپ سے کہا گیا کہ آپ بھی کہیں باہر تشریف لے جائیں تو آپ نے فرمایا میں اُس وقت تک نہیں جا سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہجرت کی اجازت نہ ملے۔ان کے چلے جانے کے بعد ایک دفعہ کفار کے مختلف قبائل نے یہ منصوبہ کیا کہ ہم سب مل کر آج رات محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم ہو گیا اور آپ نے اپنے بستر پر اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی کو جنہیں آپ نے اپنے بیٹوں کی طرح پالا تھا اور جن سے آپ کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی لٹا دیا اور خود حضرت ابو بکر کے ساتھ غار ثور کی طرف تشریف لے گئے۔یہ بات ظاہر ہے کہ جہاں تک دنیوی اسباب کا سوال ہے اس رات جو بھی آپ کے بستر پر لیٹتا اس کا مارا جانا قطعی تھا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن بہر حال کسی اور کی قربانی پیش کرنی تھی کیونکہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ آپ مکہ سے باہر تشریف لے جائیں۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ نے بہر حال جانا تھا اسلئے اب کسی دوسرے کی قربانی کا ہی سوال ہوسکتا تھا۔یہی ہو سکتا تھا کہ آپ کسی اور سے کہتے کہ میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور ایسا حکم آپ ہر صحابی کو دے سکتے تھے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ فصل لري واحد اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تو خودا اپنی قربانی پیش کر اس لئے آپ نے اُس روز کسی اور کی قربانی پیش نہیں کی بلکہ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی اور روحانی بیٹے اور داماد حضرت علیؓ سے کہا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ۔یہ اور بات ہے کہ عین موقع پر دشمن کو پتہ لگ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکل گئے ہیں اور اب ان کے بستر پر کوئی اور شخص لیٹا ہوا ہے۔اس وجہ سے انہوں نے حضرت علیؓ کو نہیں مارا۔