انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 456

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۶ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں شروع کر دیا اور یہ دعوے کرنے لگ گئے کہ آج دشمن کو ہم مار ڈالیں گے ، ہم اسے تباہ کر دیں گے، وہ ہمارے مقابلہ میں آئے تو سہی ، ہم اُسے دکھا ئیں گے کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے۔جس قوم کے مقابلہ کے لئے یہ اسلامی لشکر روانہ ہوا تھا وہ بہت مشہور تیرانداز تھی۔ایک پہاڑی راستہ پر اُس قوم نے دائیں بائیں اپنے تیرانداز چھپا کر بٹھا دیئے۔جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ فوج آگے نکل گئی وہ سینکڑوں تیرانداز جو درہ میں چھپے بیٹھے تھے انہوں نے یک دم اسلامی لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔چونکہ درہ تنگ تھا اور حملہ بالکل اچانک تھا اور آگے آگے جانے والے زیادہ تر کفار مکہ یا نو مسلم تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تیروں کی بوچھاڑ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ان کے گھوڑوں اور اونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کی سواریوں نے بھی بھا گنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ ایک وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف بارہ آدمی رہ گئے۔چار ہزار کا لشکر آپ کے سامنے تھا، دشمن دونوں طرف سے تیر برسا رہا تھا اور آپ ایک تنگ درہ میں صرف بارہ صحابہ کے ساتھ کھڑے تھے کہ آپ کے گھوڑے کی باگ حضرت ابو بکر نے پکڑ لی اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اب آگے جانا مناسب نہیں جب اسلامی لشکر جمع ہو جائے گا اُس وقت آگے بڑھیں اس وقت آگے جانا سخت خطر ناک ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو آپ نے فرمایا ابوبکر ! ابو بکر میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو۔خدا کے رسول میدانِ جنگ سے بھا گا نہیں کرتے۔پھر آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آپ دشمن کی طرف بڑھے۔اُس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ آنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ المطلب 1 میں نبی ہوں جھوٹا نہیں۔مگر تم میرے اس فعل کو دیکھ کر کہ میں اکیلا چار ہزار کے لشکر کی طرف بڑھ رہا ہوں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ میں کوئی خدائی طاقتیں اپنے اندر رکھتا ہوں ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں مگر خدا نے مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں اُن کا تقاضا ہے کہ میں اس وقت کسی خطرہ کی پرواہ نہ کروں اور دشمن کی طرف بڑھتا چلا جاؤں۔پھر آپ نے حضرت عباس کو بلایا ( ان کی آواز اونچی تھی اور اُن سے کہا کہ بلند آواز سے پکارو کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔اُس وقت آپ نے مہاجرین کا نام