انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 169

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۶۹ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قو میں اخلاق سے بنتی ہیں مسلمانوں کو اس وقت اخلاق کی سخت ضرورت ہے پاکستان اور ہندوستان کی دو الگ الگ گورنمنٹیں بنے پر سابق نظام حکومت چونکہ درہم برہم ہو گیا اس لئے ہر چیز کو اُٹھا کر نئے سرے سے دوسری جگہ رکھا جا رہا ہے۔ہند و چونکہ پہلے سے ملازمتوں میں زیادہ تھے ہندوستان یونین کے محکموں میں اتنی ابتری پیدا نہیں ہوئی لیکن پاکستان گورنمنٹ کے محکموں میں بہت زیادہ ابتری پیدا ہوگئی ہے اس لئے کہ ہر محکمہ کے لئے کافی آدمی مہیا نہیں ہور ہے اور اس وجہ سے جس کام کے لئے دس آدمی چاہئیں پانچ میسر آتے ہیں۔یہ خرابی اس وجہ سے اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ابھی بہت سے مسلمان ملازم مشرقی پنجاب اور باقی ہندوستان میں رُکے پڑے ہیں۔اُن کو ابھی تک مشرقی یا مغربی پاکستان میں پہنچایا نہیں جا سکا۔اگر وہ آ بھی جائیں تب بھی پاکستان کے تجربہ کار کارکنوں میں بہت بڑی کمی رہ جائے گی لیکن ان کے نہ پہنچنے کی وجہ سے تو بہت زیادہ کمی واقعہ ہوگئی ہے اس کا علاج حکومت کے پاس کوئی نہیں۔اس کا علاج خود مسلمان ملازموں کے ہاتھ میں ہے۔آج ہر مسلمان کو چھ گھنٹے کی بجائے دس یا بارہ گھنٹے دفتر میں کام کرنا چاہئے اور ایک ایک منٹ کو ضائع ہونے سے بچانا چاہئے لیکن مختلف دفا تر سے جو شکایتیں ہمیں پہنچ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جس محکمہ میں دس آدمیوں کی ضرورت ہے اور وہاں پانچ کام کر رہے ہیں وہ پانچ آدمی بجائے دس یا بارہ کا کام کرنے کے اپنا سارا دن ان شکایتوں میں ضائع کر دیتے ہیں کہ ہم پانچ آدمی دس کا کام کس طرح کریں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام پانچ کا بھی نہیں ہوتا۔صفر کے برابر رہ جاتا ہے اس مرض کو جلد سے جلد دور کرنا چاہئے۔ہر پاکستانی ملازم کو سمجھنا چاہئے کہ حکومت کا استحکام اس کی