انوارالعلوم (جلد 19) — Page 170
انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات کوششوں پر منحصر ہے۔ہر پاکستانی ملازم کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ وہ پاکستانی عمارت کا ایک ستون ہے جس کی کمزوری سے عمارت میں کمزوری واقع ہو جائے گی بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہر پاکستانی ملازم کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ پاکستانی حکومت کو قائم کرنے کی ذمہ داری صرف اُس پر ہے اور وہ اس کے لئے خدا اور اُس کے رسول کے سامنے جواب دہ ہے۔جب یہ روح پاکستانی ملازموں میں پیدا ہو جائے گی تو یقیناً اس بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو کنارے تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔پاکستان کے ملازموں پر دو ذمہ داریاں ہیں ایک اچھے شہری کی ذمہ داری جو یونائٹیڈ سٹیٹس امریکہ، انگلستان، روس اور دوسری مہذب گورنمنٹوں کے شہری ادا کر رہے ہیں اور ایک ملت اسلامیہ کی ذمہ داری جو ایک اچھے شہری کی ذمہ داری کے علاوہ ہے۔ایک یونائٹیڈ سٹیٹس امریکہ کا شہری جو روز خرچ کرتا ہے صرف اس لئے خرچ کرتا ہے کہ اس کی حکومت مضبوط ہو جائے اور باعزت زندگی بسر کر سکے۔ایک انگلستان کا شہری یا ایک روس کا شہری جتنا زور اپنی حکومت کے استحکام میں لگاتا ہے وہ صرف اس کے اچھے شہری کی ذمہ داری تک محدود ہوتا ہے لیکن پاکستان کے ہر شہری پر اور اس کے ہر کارکن پر دو ذمہ داریاں ہیں اس نے اپنی حکومت کو بھی مضبوط کرنا ہے اور اس نے اسلام کے بچے کھچے آثار کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔پس یورپ اور امریکہ کے اچھے شہریوں کی نسبت اس کی ذمہ داریاں دگنی ہیں اور اس کو یورپ اور امریکہ کے اچھے شہریوں سے بھی دُگنی محنت کرنی چاہئے۔اگر اس ذمہ داری کا احساس نہ کیا گیا تو آنے والے خطرات کا مقابلہ پاکستان نہیں کر سکے گا لیکن اگر ان ذمہ داریوں کا احساس کیا گیا تو یقیناً پاکستان محفوظ رہے گا اور وہ طاقت پکڑتا چلا جائے گا۔ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ہمارا ملک انگلستان سے بہت بڑا ہے اور صرف مشرقی پاکستان کی آبادی انگلستان کی آبادی کے قریباً برابر ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ پچھلے دوسو سال میں انگلستان نے جو شوکت حاصل کی وہ صرف مشرقی پاکستان کے افراد کی بدولت پاکستان حاصل نہ کر سکے۔اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی ساری ذمہ داری پاکستان کے کارکنوں پر ہوگی اور صرف اس وجہ سے اس میں ناکامی ہوگی کہ انہوں نے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا نہ کیا۔آج پاکستان کے ہر کلرک، ہرمنشی ، ہر چپڑاسی ، ہر افسر، ہر ماتحت کو اپنے سابقہ احساسات دل