انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 168

الفضل کے اداریہ جات انوار العلوم جلد ۱۹ زیره ۱۶۸ تحصیل انگریز اس امر کو نہیں مانتا تو پھر ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ لاہور، ملتان ، راولپنڈی کی کمشنریاں اسلامی حکومت میں رہنی چاہئیں۔اس کا جواب سکھ یہ دیں گے کہ امرتسر میں سکھوں کی زیادتی ہے اس لئے امرتسر کا علاقہ ہندو علاقہ میں جانا چاہئے۔اگر وہ اس دلیل پر زور دیں تو ہمیں اسے بھی مان لینا چاہئے مگر یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ اس دلیل کے مطابق تحصیل اجنالہ تحصیل فیروز پور تحصیل تحصیل جالندھر، تحصیل نکو در مسلمان علاقہ میں ملانی چاہئیں۔اسی طرح چونکہ ی ہوشیار پور اور تحصیل دسوہہ میں ہندوؤں اور سکھوں سے مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے ان کو بھی اسلامی علاقہ میں ملانا چاہئے۔اگر ہندو، سکھ دعوی کریں کہ ان علاقوں کی اچھوت آبادی ان کے ساتھ ہے تو ان کی رائے شماری کر لی جائے۔بظاہر رائے شماری پر اچھوت سب کے سب یا نصف تو ضرور مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔اگر ایسا ہوا تو مغربی پنجاب کے ساتھ اجنالہ، فیروز پور، زیرہ، جالندھر، نکودر، ہوشیار پور اور دسوہہ کو بھی ملا نا ہوگا۔جس کے یہ معنی ہوں گے کہ چھ سکھ ضلعوں میں سے گورداسپور تو پہلے ہی مسلم اکثریت کی وجہ سے نکل چکا ہوگا۔باقی پانچ میں سے قریباً د وضلعے اس تدبیر سے نکل جائیں گے اور تین ضلع صرف سکھوں کے لئے رہ جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک میں سوائے لدھیانہ کے اسلامی حکومت کا علاقہ گھسا ہوا ہوگا۔سکھ کسی صورت میں اسے قبول نہیں کریں گے۔پس سکھوں کی سیاسی حالت ہی رہ جائے گی کہ وہ ضلع امرتسر کو چھوڑ دیں یا امرتسر کی دو تحصیلوں کے بدلہ میں اپنے علاقہ کی چھ تحصیلیں چھوڑ دیں۔یہ دونوں صورتیں سکھوں کی اس خواب کو پریشان کر دیتی ہیں جو اس وقت ہندو مسمریزم انہیں دکھا رہا ہے۔اوّل تو وہ ان دو باتوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں مان سکتے۔اگر مانیں گے تو ایک دو سال میں ہی پھر مغربی ہندوستان میں ملنے کی خواہش ان کے دل میں پیدا ہو جائے گی اور ہند و سکھ اتحاد کی قلعی ان پر کھل جائے گی۔یہ تدبیر مسلمانوں کی ایسی ہوگی کہ انگریز عقلاً اسے رڈ نہیں کر سکے گا نہ دوسرا فریق اس کو قبول کر سکے گا۔پس سکھ جلد ہی اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ اُن کا فائدہ مسلمانوں سے ملنے میں ہے جن کے ملک میں وہ چودہ فی صدی ہیں نہ کہ ہندوؤں کے ساتھ ملنے میں جن کے علاقہ میں وہ ایک فی صدی ہیں اور یہ تبدیلی رائے ان کے آپس کے اختلاف کو دور کر کے باہمی دوستی کے سامان پیدا کر دے گی۔(الفضل قادیان ۲ / جون ۱۹۴۷ء )