انوارالعلوم (جلد 19) — Page 153
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵۳ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔ارادہ فرمایا۔طائف ایک مشہور مقام ہے جو مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلہ پر ہے طائف میں بڑے بڑے صاحب اثر اور دولت مند لوگ آباد تھے وہ لوگ اپنے آپ کو بڑا جنگجو خیال کرتے تھے اور طائف کی بستی حجاز کی بہت بڑی چھاؤنی سمجھی جاتی تھی۔غرض آپ طائف پہنچے اور آپ نے وہاں کچھ دنوں تک بڑے بڑے رؤساء کو تبلیغ کی مگر انہوں نے بھی اسلام کو نہ مانا بلکہ تمسخر سے کام لیا۔طائف کے رئیس اعظم عبد یا لیل نے اس خیال سے کہ کہیں آپ کی باتوں کا اثر شہر کے نوجوانوں پر نہ ہو جائے آوارہ گردنو جوانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ پر پتھر برسائیں اور شہر کے کتے آپ کے پیچھے لگائیں اور آپ کو گالیاں دیں چنانچہ ان اوباشوں نے آپ کے پیچھے کتے لگا دیئے اور آپ کو سخت گالیاں دیں اور ساتھ ہی آپ پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے آپ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا اور برابر تین میل تک ان اوباشوں نے آپ کا تعاقب کیا اور آپ پر پتھر برساتے آئے۔طائف سے تین میل کے فاصلہ پر پہنچ کر ان لوگوں نے آپ کا پیچھا چھوڑ ا مگر اُس وقت تک آپ کا سارا جسم لہولہان ہو چکا تھا آپ اسی حالت میں تھے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور کہا ہے کہ اگر آپ حکم دیں تو میں ابھی یہ پہاڑ جو سامنے دکھائی دیتا ہے اسے طائف کی بستی پر اُلٹ دوں اور اس کو تباہ کر دوں۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں آخر انہی لوگوں نے ایمان لانا ہے اگر ان پر عذاب آ گیا اور یہ تباہ ہو گئے تو مجھے پر ایمان کون لائے گا۔یہ بھی آلیس الله بکاف عبده کا نمونہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے طائف والوں کے ظلم و ستم کو دیکھ کر اپنے پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ کے پاس بھیجا کہ اگر اجازت ہو تو طائف کی بستی کو تباہ کر دیا جائے یہ الگ بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتہ کو اس بات کی اجازت نہ دی اور وہ تباہی سے بچ گئے۔کوئی نادان کہہ سکتا ہے کہ فرشتہ کا آنا ایک خیالی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ پر پہلے بھی کبھی فرشتہ کا نزول ہوا تھا یا نہیں اور پہلے بھی کبھی خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت آپ کے شامل حال ہوئی تھی یا نہیں؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ہر ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی نصرت آپ کے شامل حال رہی اور خدا تعالیٰ کے فرشتے آپ کی مدد کے لئے اترتے رہے۔کیا حضرت عمرؓ کے