انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 152

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵۲ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات کو تو سُن لیں جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بنی نوع انسان کے لئے لائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئی دفعہ ہم نے ایک واقعہ سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ دشمن جب ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو ہمیں امید ہوتی ہے کہ ان میں سے سعید روحیں ہماری طرف آجائیں گی لیکن جب نہ تو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں اور بالکل خاموش ہو جاتے ہیں تو یہ بات ہمارے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ نبی کی مثال اُس بڑھیا کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کچھ پاگل سی تھی اور شہر کے بچے اُسے چھیڑا کرتے تھے اور وہ انہیں گالیاں اور بد دعائیں دیا کرتی تھی آخر بچوں کے ماں باپ نے تجویز کی کہ بچوں کو روکا جائے کہ وہ بڑھیا کو دق نہ کیا کریں چنانچہ انہوں نے بچوں کو سمجھایا مگر بچے تو بچے تھے وہ کب باز آنے والے تھے یہ تجویز بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔آخر بچوں کے والدین نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا جائے اور دروازوں کو بند رکھا جائے چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور دو تین دن تک بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا۔اس بڑھیا نے جب دیکھا کہ اب بچے اسے دق نہیں کرتے تو وہ گھر گھر جاتی اور کہتی کہ تمہارا بچہ کہاں گیا ہے؟ کیا اسے سانپ نے ڈس لیا ہے؟ کیا وہ ہیضہ سے مر گیا ہے؟ کیا اس پر چھت گر پڑی ہے؟ کیا اس پر بجلی گر گئی ہے؟ غرض وہ ہر دروازہ پر جاتی اور اس قسم کی باتیں کرتی آخر لوگوں نے سمجھا کہ بڑھیا نے تو پہلے سے بھی زیادہ گالیاں اور بد دعائیں دینی شروع کر دی ہیں اس لئے بچوں کو بند رکھنے کا کیا فائدہ اُنہوں نے بچوں کو چھوڑ دیا۔آپ فرمایا کرتے تھے یہی حالت نبی کی ہوتی ہے۔جب مخالفت تیز ہوتی ہے تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے اور جب مخالف جاتے ہیں تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہولوگوں کی توجہ الہی سلسلہ کی طرف پھر نہیں سکتی۔غرض نبی کے لئے سب سے بڑی تکلیف دہ چیز یہی ہوتی ہے کہ لوگ اُس کی مخالفت چھوڑ دیں اور اُس کی باتیں نہ سنیں اس لئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مکہ کے لوگ آپ کی باتیں نہیں سنتے اور نہ وہی آپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ مکہ سے باہر کسی اور جگہ کے لوگوں کو تبلیغ کرنی چاہئے چنانچہ آپ نے طائف جانے کا