انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 46

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۶ خوف اور امید کا درمیانی راسته آپ مکہ سے چُھپ کر نکلے اور دوسری طرف آپ کی اُمید کا یہ عالم تھا کہ باوجود اس کے کہ دشمن ہتھیاروں سے مسلح تھا اور اگر وہ لوگ ذرا بھی جھک کر غار کے اندر دیکھتے تو وہ آپ کو دیکھ سکتے تھے کیونکہ غار ثور کا منہ بڑا چوڑا ہے اور وہ تین گز کے قریب ہے آپ نہایت دلیری اور حوصلہ کے ساتھ فرماتے ہیں ابو بکر ! ڈرتے کیوں ہو ان الله معنا جب خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تو ہمیں کس بات کا ڈر ہے۔ادھر حضرت ابو بکر کے اخلاص کی یہ حالت تھی کہ انہوں نے عرض کیا که يَا رَسُولَ اللَّه! میں اپنے لئے تو نہیں ڈر رہا میں تو اس لئے ڈر رہا ہوں کہ اگر آپ خدانخواستہ مارے گئے تو خدا تعالیٰ کا دین تباہ ہو جائے گا۔اسی طرح جب مدینہ میں منافقوں کی شرارت حد سے بڑھ گئی تو آپ کئی رات متواتر نہ سوئے جب آپ کی یہ تکلیف بڑھ گئی تو آپ نے ایک مجلس میں فرمایا کاش ! خدا تعالیٰ کسی مخلص مسلمان کے دل میں ڈالتا کہ وہ میرا پہرہ دیتا اور میں سولیتا۔آپ کو یہ بات کہے دو تین منٹ ہی ہوئے تھے کہ آپ کو ہتھیاروں کے چھنکار کی آواز آئی۔آپ نے فرمایا کون ہے؟ آنے والے نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں فلاں ہوں۔آپ نے فرمایا یہ ہتھیار کیسے ہیں؟ اس نے عرض کیا يَا رَسُول اللہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کا پہرہ دوں آپ آرام فرمائیں سے ایک طرف تو آپ کی احتیاط کی یہ حالت تھی مگر دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ جب رومیوں کے حملہ کا ڈر تھا اور مدینہ میں یہ خبر عام تھی کہ آج یا کل ہی حملہ ہونے والا ہے اس لئے لوگوں کو نیند بھی نہ آتی تھی۔ایک رات جب کچھ شور سا ہوا اور صحابہ شور سن کر جمع ہونے لگے اور مسجد میں بیٹھ گئے اس انتظار میں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سور ہے ہوں گے آپ کو خبر کی جائے کہ اس قسم کا شور ہوا ہے وہ اس قسم کی باتیں کر ہی رہے تھے کہ باہر سے ایک سوار آ تا دکھائی دیا۔جب وہ سواران کے پاس پہنچا تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ وہ آنے والا سوار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔آپ نے آتے ہی فرمایا خطرہ کی کوئی بات نہیں میں دیکھ کر آیا ہوں۔آپ جس گھوڑے پر سوار ہو کر گئے تھے وہ گھوڑا بھی کسی دوسرے کا تھا آپ نے جب شور سنا تو پہلے جا کر گھوڑ الیا اور پھر پیشتر اس کے کہ سارے صحابہ جمع ہو جاتے آپ میلوں میل تک دیکھ کر واپس بھی تشریف لے آئے۔ہے اب دیکھو ایک طرف تو خوف کی وہ حالت تھی اور ایک طرف امید کی یہ