انوارالعلوم (جلد 19) — Page 47
انوار العلوم جلد ۱۹ حالت تھی۔خوف اور امید کا درمیانی راستہ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ غزوہ حنین میں جب مسلمانوں کا لشکر پیچھے ہٹا کیونکہ دشمن کے تیروں کے حملہ نے شدت اختیار کر لی تھی آپ صرف چند صحابہ کو ساتھ لے کر دشمن کی طرف آگے بڑھے حضرت ابو بکڑ نے یہ دیکھ کر کہ دشمن کا حملہ شدید ہے آپ کو روکنا چاہا اور آگے بڑھ کر آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی مگر آپ نے فرمایا چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ کو۔اس کے بعد آپ یہ شعر پڑھتے ہوئے آگے بڑھے۔نَّبِيُّ لَا كَذِب ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّ مطلب ۵ یعنی میں خدا تعالیٰ کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔آپ کا یہ فرمانا کہ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اس کا یہ مطلب تھا کہ اس وقت دشمن کا حملہ اس قدر شدید ہے کہ دشمن کے چار ہزار تیرانداز تیروں کی بارش برسا رہے ہیں اس حالت میں میرا آگے بڑھنا انسانیت کی شان سے بہت بلند اور بالا نظر آتا ہے اس سے کوئی دھوکا نہ کھائے اور یہ نہ سمجھے کہ مجھ میں خدائی طاقتیں ہیں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہی ہوں اور ایک بشر ہوں صرف اللہ تعالیٰ کی مددمیرے نبی ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ ہے۔جنگ بدر کے موقع پر صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک اونچی جگہ بنادی اور عرض کیا يَا رَسُولَ الله الا اللہ آپ یہاں تشریف رکھیں۔چنانچہ آپ وہیں بیٹھ گئے اور خدا تعالیٰ کے حضور نہایت عجز اور رقت سے دعائیں کرنے لگے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ اللہ کیا اللہ تعالیٰ کے آپ کے ساتھ وعدے نہیں ہیں آپ نے فرمایا وعدے تو ہیں مگر وہ غنی بھی تو ہے اور مؤمن کا کام ہے کہ اس کی غناء کو بھی نہ بھولے۔پس آپ کو ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا اور کامل یقین تھا اور دوسری طرف یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ غنی بھی ہے آپ کو خوف بھی تھا مگر اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ احتیاط کی طرف سے گلی طور پر پہلو تہی کرتے ہوئے صرف امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں مؤمن کو امید کی بھی اور