انوارالعلوم (جلد 19) — Page 45
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵ خوف اور امید کا درمیانی راستہ خدشہ رہے کہ کب وہ اچانک اس پر حملہ کر دتیا ہے اور وہ اس کے لئے تدبیر ہیں سوچتا رہے، دوسری طرف وہ اپنی طرف سے تمام تدبیریں کر چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کا منتظر ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی تو رات کے وقت کی اور آپ دشمنوں کی نظروں سے بالکل چھپ کر نکلے حالانکہ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے آپ کو دشمن کے منصوبوں سے بچانے کے بے شمار وعدے تھے اور آپ کو ان وعدوں پر یقین کامل تھا مگر آپ نے اس یقین کے ہوتے ہوئے بھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور دشمنوں سے محفوظ و مصون رکھے گا حتی الامکان دشمن کی نظروں سے بچ کر نکلنے کی کوشش کی۔یہ نہیں کہا کہ آجاؤ کے والو ! مجھے پکڑ لو۔مگر اس کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ آپ ڈرتے تھے بلکہ آپ نے صرف احتیاطی پہلو اختیار کیا تھا ورنہ آپ کی دلیری کا یہ عالم تھا کہ جب آپ اپنے رفیق حضرت ابو بکر کے ساتھ غار ثور کے اندر تھے تو دشمن عین غار کے منہ پر پہنچ گیا اور اس کے ساتھ کھوجی بھی تھے جو پاؤں کے نشانوں کا کھوج نکالتے وہاں تک پہنچے تھے مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت جب آپ غار کے اندر داخل ہو گئے تو ایک مکڑی نے غار کے منہ پر جھٹ جالاتن دیا۔دشمنوں نے یہ دیکھ کر کہ غار کے منہ پر تو مکڑی کا جالا ہے اس میں سے کسی آدمی کے گذرنے کا امکان نہیں ہو سکتا یہ خیال کر لیا کہ آپ کسی اور طرف چلے گئے ہیں حالانکہ مکڑی دو یا چار منٹ کے اندر نہایت تیزی کے ساتھ اپنا جالا تیار کر لیتی ہے اور میں نے خود مکڑی کو جالا تنتے دیکھا ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ پردہ ڈالنا چاہتا تھا اس لئے دشمن کی سمجھ میں ہی یہ بات نہ آ سکی اور انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو وہ غار کے اندر ہیں یا آسمان پر چلے گئے ہیں کیونکہ پاؤں کے نشانات غار تک پہنچ کر ختم ہو جاتے تھے اُس وقت جب کہ دشمن یہ کہہ رہے تھے کہ یا تو محمد ﷺ اور اس کا ساتھی غار کے اندر ہیں یا آسمان پر چلے گئے ہیں حضرت ابو بکر اندر ان کی باتیں سُن رہے تھے ان کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا اور آہستہ سے آپ کی خدمت میں عرض کیا یا رَسُولَ الله! دشمن تو سر پر آن پہنچا ہے لے اس واقعہ کو قرآن کریم نے بھی بیان کیا آپ نے فرمایا۔لا تحزن إن الله معنا ! ابو بکر ڈرتے کیوں ہو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔پس ایک طرف تو آپ نے اتنی احتیاط کی کہ