انوارالعلوم (جلد 19) — Page 465
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۶۵ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں بہر حال پاکستان کے لئے اب سوائے اس کے کوئی اور چیز نہیں کہ فتح یا موت۔دوسرے ملکوں کے لئے تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کر لیں کیونکہ ان کی آبادی تھوڑی ہے لیکن پاکستان کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں جو پاکستان کے لوگوں کو پناہ دے سکے۔کسی ملک سے پاکستان کی آبادی دوگنی ہے اور کسی ملک سے تین گنی اس لئے کوئی ملک ایسا نہیں جس میں پاکستان کے لوگ سما سکیں بلکہ ان ممالک میں پاکستان کی ہیں فیصدی آبادی کا بسا نا بھی ناممکن ہے کجا یہ کہ کسی ملک سے دوگنی یا تگنی آبادی کو وہاں بسایا جا سکے۔پس پاکستان کے ہر مسلمان مرد اور عورت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے یا تو عزت اور فتح کی زندگی بسر کرنی ہے یا عزت اور فخر کی موت اُس نے مرنا ہے۔یہی ایک راستہ ہے جس پر ہر شریف انسان کو چلنا چاہئے کہ یا وہ دشمن پر فتح پائے یا عزت کی موت مرے۔حیدر الدین، میسور کا ایک مسلمان بادشاہ تھا۔جسے انگریزوں نے بہت بدنام کیا اور اس کے نام پر انہوں نے اپنے کتوں کا ٹیپو نام رکھا۔یہ آخری مسلمان بادشاہ تھا جس میں اسلامی غیرت پائی جاتی تھی۔حیدر آباد جو آج کئی قسم کی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اس نے ہر دفعہ میسور کی اس حکومت کو تباہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔جب بنگلور پر انگریزوں نے آخری حملہ کیا تو سلطان حیدرالدین قلعہ کی ایک جانب فصیل کے پاس اپنی فوجوں کو لڑائی کے لئے ترتیب دے رہا تھا کہ ایک جرنیل اس کے پاس بھاگا بھاگا آیا اور اُس نے کہا بادشاہ سلامت ! اس وقت کہیں بھاگ جائے کسی غدار نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا ہے اور انگریزی فوج قلعہ کے اندر داخل ہو کر مارچ کرتی ہوئی آگے بڑھتی چلی آرہی ہے ابھی کچھ رستے خالی ہیں آپ آسانی سے ان رستوں کے ذریعہ بھاگ سکتے ہیں۔حیدر الدین نے نہایت حقارت کے ساتھ اُس کی طرف دیکھا اور کہا تم کہتے ہو میں بھاگ جاؤں۔یا درکھو شیر کی دو گھنٹہ کی زندگی گیدڑ کی دوسو سال کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے یہ کہا اور تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے لڑتا ہوا مارا گیا اور اُس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔تو جرات اور بہادری ایسی چیز ہے جو دنیا میں انسان کا نام عزت کے ساتھ قائم رکھتی ہے۔تاریخوں میں کبھی تم نے بزدلوں کے قصے بھی پڑھے ہیں کہ فلاں نے جنگ کے موقع پر اس طرح بُزدلی،