انوارالعلوم (جلد 19) — Page 464
۴۶۴ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں انوار العلوم جلد ۱۹ سے نہیں آیا تھا ، خود پاکستان کی حکومت نے اُن کو بلوایا تھا۔یہ کہہ کر بلوایا تھا کہ ہم مشرقی پنجاب کی حکومت سے معاہدہ کر چکے ہیں کہ اس طرف کے مسلمان ادھر آجائیں اور اس طرف کے ہند و اُدھر چلے جائیں۔انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہم تمہاری مددکریں گے، تمہارے لئے زمینوں اور مکانوں کا انتظام کریں گے ، تم اپنے گھروں کو چھوڑو اور مغربی پنجاب میں آ جاؤ۔اِسی اُمید پر انہوں نے اپنے وطن چھوڑے اور اسی امید پر وہ مغربی پنجاب میں آئے۔ہم جو قادیان کے رہنے والے ہیں صرف ہماری ایک مثال ایسی ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ قادیان کو چھوڑیں۔ہم ایک چھوٹی سی بستی میں رہتے تھے اور ہمارا ارادہ تھا کہ اگر اردگرد کے دیہات اور شہروں میں رہنے والے مسلمان اتحاد کر لیں تو اس علاقہ کو نہ چھوڑا جائے مگر چند دنوں کے اندر اندر سارا مشرقی پنجاب خالی ہو گیا۔مگر باوجود اسکے کہ وہ وہاں سے بھاگے اور اس خیال سے بھاگے کہ پاکستان میں ہمارے لئے جگہ موجود ہے پھر بھی وہ آج چاروں طرف خانہ بدوش قوموں کی طرح پھر رہے ہیں اور انہیں کوئی ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ان کا یہ خیال کہ ہمیں پاکستان میں رہنے کی جگہ مل جائے گی غلط تھا یا صحیح ، سوال یہ ہے کہ اگر مشرقی پنجاب کے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو پاکستان پناہ نہیں دے سکا تو پاکستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو کیا بلوچستان پناہ دے گا؟ جس کی اپنی آبادی چالیس لاکھ کے قریب ہے۔کیا ایران پناہ دے گا ؟ جس کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے۔کیا عرب پناہ دے گا ؟ جس کی آبادی ۷۰ ۸۰ لاکھ ہے۔کیا افغانستان پناہ دے گا ؟ جس کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ نہیں ہے آخر کون سا اسلامی ملک ہے جس میں تین کروڑ مسلمانوں کے سمانے کی گنجائش موجود ہے۔اگر پاکستان نے شکست کھائی تو یقیناً اس کے لئے موت ہے پاکستان میں بھی موت ہے اور پاکستان سے باہر بھی موت ہے اور جب موت ایک لا زمی چیز ہے تو اب سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ مسلمان جائیں کہاں؟ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لاہور کے آگے لڑتے لڑتے مارے جائیں یا کراچی کے سمندر میں غرق ہو کر مریں۔میں نے کہا یہ دونوں موتیں آپ لوگوں کے سامنے ہیں اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ آپ کونسی موت قبول کرنا چاہتے ہیں۔کیا آپ لاہور کے سامنے دشمن سے لڑتے ہوئے مرنا زیادہ پسند کرتے ہیں یا یہ پسند کرتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے کراچی کے سمندر میں غرق ہو جائیں اور مارے جائیں؟