انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 23

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اسلام لانے سے پیشتر سو اونٹ ذبح کر کے غریبوں کو کھلائے تھے آپ نے فرمایا تمہاری اسی نیکی کی وجہ سے تمہیں ہدایت نصیب ہوئی ہے۔پس جو فعل اچھا ہوا سے اچھا ہی کہنا پڑے گا۔حاتم طائی گو مسلمان نہ تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی سخاوت کی وجہ سے اس کا اتنا خیال تھا کہ جب ایک دفعہ قیدی آئے تو ان میں ایک عورت بھی تھی اس عورت کے متعلق جب معلوم ہوا کہ وہ حاتم طائی کی بیٹی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ جو شخص غیروں کے ساتھ اتنا حسن سلوک کرتا تھا اس کی بیٹی کو قید رکھوں یہ کہ کر آپ نے اسے آزاد کر دیا۔حاتم طائی کی بیٹی بھی آپ کی صداقت اور شرافت کی قائل ہو چکی تھے اس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! مجھے بھی شرم آتی ہے کہ میرے باقی ساتھی قیدر ہیں اور میں رہا ہو جاؤں۔یہ سُن کر آپ نے باقی قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا حکم دے دیا۔لے پس حاتم طائی کی نیکی ہی تھی جس کی وجہ سے آپ نے اس کی لڑکی اور اس کی قوم کو رہا کر دیا۔حکیم بن حزام کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوستی تھی گو ابتداء میں وہ آپ پر ایمان نہ لایا تھا مگر آپ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ حکیم بن حزام جیسا غریبوں سے ہمدردی کرنے والا میں نے نہیں دیکھا۔آپ کے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جانے کے بعد وہ ایک دفعہ تجارت کے لئے شام کی طرف گیا تو وہاں اس نے ایک نہایت خوبصورت جبہ دیکھا ، اُسے چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اور آپ کا اس کے دل میں بڑا احترام تھا اس لئے باوجود کافر ہونے کے اور باوجود کفار کا سردار ہونے کے اس نے وہ جتبہ آپ کے لئے خرید لیا اور واپس مکہ پہنچا اور پھر مکہ سے اونٹ پر سوار ہو کر آپ کے پاس مدینہ پہنچا اور وہ جبہ آپ کی خدمت میں پیش کر کے کہا کہ میں نے جب یہ جبہ دیکھا اور مجھے خوبصورت معلوم ہوا تو میں نے سمجھا کہ یہ جبہ میرے دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کو نہیں بجے گا۔مگر آپ نے فرمایا میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کر سکتا۔وہ کہنے لگا میں نے آپ کو یہ جبہ پہنچانے کے لئے کتنا لمبا سفر اختیار کیا ہے اور میرے یہاں آنے کی سوائے اس کے اور کوئی غرض نہ تھی کہ میں آپ کو یہ جبہ پہنچاؤں جو مجھے