انوارالعلوم (جلد 19) — Page 24
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر نہایت خوبصورت نظر آیا تھا۔آپ نے فرمایا اچھا اگر تم یہ جبہ مجھے دینا ہی چاہتے ہو تو مجھ سے اس کی قیمت لے لو۔اس نے کہا میں لایا تو آپ کو مفت دینے کے لئے تھا لیکن اگر آپ مفت نہیں لینا چاہتے اور قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔چنانچہ آپ نے قیمت دے کر وہ جبہ اُس سے لے لیا۔اے حکیم بن حزام کی یہ کتنی دوست پروری تھی کہ وہ شام سے ایک تحفہ آپ کے لئے لایا پہلے مکہ پہنچا اور پھر مکہ سے صرف اس غرض کے ماتحت کہ وہ جبہ آپ تک پہنچائے اس نے تین سو میل کا سفر طے کیا صرف اس وجہ سے کہ یہ جبہ میرے دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی سجے گا۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ اس فعل کے پیچھے کونسا جذ بہ کارفرما تھا۔اس کے پیچھے یہ جذبہ تھا کہ وہ خدا کے ایک بندے کی خدمت کرنا چاہتا تھا تو یہ بڑے اعلیٰ درجہ کا خلق ہے لیکن اگر اس کے پیچھے یہ جذبہ تھا کہ میں معزز کہلاؤں تو یہ فعل حسنہ تھا اخلاق فاضلہ اس کا نام نہیں رکھ جا سکتا۔قرآن کریم کہتا ہے خُلقِ فاضل صرف وہی فعل ہوسکتا ہے جس کے پیچھے کوئی طبعی جذ بہ نہ ہو، کوئی سیاسی غرض نہ ہو، کوئی اقتصادی مفاد مد نظر نہ ہوں بلکہ صرف خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کوئی کام کیا جائے۔ایک ماں جب اپنے بچے سے محبت کرتی ہے تو وہ طبعی جذبہ کے ماتحت کرتی ہے اور اپنے بچے سے محبت کرنے کے لئے مجبور ہوتی ہے وہ جب بیمار ہوتا ہے اور اس کا ودھ نہیں پیتا تو وہ ڈاکٹروں، حکیموں اور ویدوں کے پاس ماری ماری پھرتی ہے کہ میرا بچہ کیوں میرا خون نہیں چوستا اور کہتی ہے خدا کے لئے اس کا علاج کرو۔کیا ہم اس کو اخلاق فاضلہ کا نام دے سکتے ہیں ہرگز نہیں وہ عورت مجبور ہوتی ہے اپنی محبت کی وجہ سے اسی لئے وہ چاہتی ہے کہ وہ اس کا خون چوستا رہے۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ اخلاق فاضلہ اختیار کرنے سے آخر انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اخلاق اس کے طبعی جذبات کی طرح ہو جاتے ہیں اور وہ اخلاق فاضلہ پر بالکل اسی طرح مجبور ہو جاتا ہے جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ دینے کے لئے۔اور مؤمن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر اس کے اخلاق فاضلہ کے رستہ میں کوئی رکاوٹ واقع ہو جائے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے جو شخص اس حالت کو پہنچ جائے کہ اخلاق فاضلہ اس کے طبعی جذبات کے ماتحت عمل میں آنے لگ جائیں تو باوجود طبعی ہونے کے اس کی نیکی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اُس وقت یہ کہا جائے گا کہ یہ شخص مجسم اخلاق بن گیا ہے۔غرض عربوں کے اندر اس