انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 396

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۶ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے کیا کہ گاؤں والوں نے اگر روٹی دے دی تو کھالی نہ دی تو بھو کے رہے اسی طرح وہ بھی کریں گے۔اگر بھیک مانگ کر گزارہ کرنا پڑا تو بھیک مانگنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔اس طرح ہر مبلغ کو دو سال کی زندگی بغیر ایک پیسہ لئے سلسلہ کی خدمت کیلئے وقف کرنی پڑے گی تا کہ آئندہ مشکلات برداشت کرنے کی اس کے اندر قابلیت پیدا ہو جائے۔ایک مرکز کی ضرورت یہ بھی دوست جانتے ہیں کہ پاکستان میں آجانے کی وجہ سے ہم سب بکھرے ہوئے ہیں ہمارا نظام ایسا ہے کہ ایک جگہ ا رہنے کے بغیر وہ پورے طور پر چل نہیں سکتا مثلاً مدرسہ اور کالج میں ہم اپنے لڑکوں کو دینیات کی تعلیم دیتے ہیں اگر مدرسہ اور کالج ایسی جگہ نہ ہوں جہاں جماعت کے دوست آسانی کے ساتھ اپنے لڑکوں کی تعلیم کیلئے بھجوا سکیں تو لازماً ان کی تعلیم میں حرج واقعہ ہوگا اور دینیات کی تعلیم سے وہ محروم رہ جائیں گے۔اسی طرح مثلاً جلسہ یا دوسرے اہم اجتماعات ہمارے لئے ضروری چیز ہیں مگر ایسے اجتماع بھی بغیر مرکز کے نہیں ہو سکتے۔لاہور کتنا بڑا شہر ہے مگر یہاں بھی اسی وقت کی وجہ سے مجھے یہ حکم دینا پڑا کہ دو ہزار سے زیادہ لوگ جلسہ پر نہ آئیں حالانکہ قادیان میں تھیں تھیں ہزار آدمی آتے اور ہم اُن کا آسانی سے انتظام کر لیتے تھے۔یہاں صرف دو ہزار آدمی آئے ہوئے ہیں مگر اُن کے رہنے کا کہیں انتظام ہے اور کھانے کا کہیں انتظام ہے۔اگر قادیان کی طرح تمہیں ہزار آدمی یہاں آ جاتے تو ہم ان کو کہاں رکھتے۔ا ر پس لازماً ہمیں اپنا کوئی مرکز بنانا پڑے گا اور اس مرکز کیلئے ہمیں مرکز بنا نا پڑے گا ہم جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ہمارے پاس چونکہ اتنا روپیہ نہیں کہ ہم عمارتیں بنا سکیں اس لئے جب کسی مقام کو مرکز بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو وہاں گھاس پھونس کی جھونپڑیاں بنالی جائیں گی تاکہ ہماری جماعت کے پھیلے ہوئے افراد ا کٹھے رہ سکیں اور مشترکہ جد و جہد سے ہم اپنا پروگرام چلا سکیں۔دوستوں کو عموماً اور قادیان والوں کو خصوصاً یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب مرکز کیلئے ہمیں کوئی جگہ ملے وہ فوراً وہاں اکٹھے ہو جائیں تا کہ مشترکہ جد و جہد سے ہم آگے بڑھنے کی کوشش کر سکیں۔