انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 397

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۷ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء تجارتی سکیم میں جماعت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت پاکستان بھی اور ہمارے آدمی بھی اس بات کے محتاج ہیں کہ وہ تجارتی اور صنعتی ترقی میں حصہ لیں اور چونکہ ہماری جماعت تجارت کی طرف پوری توجہ نہیں کر رہی اس لئے جس طرح جماعت کے افراد پر چندہ عام فرض ہے اسی طرح ان کے ذمہ ایک تجارتی چندہ بھی لگایا جائے گا۔یہ تجارت مشترکہ کیلئے ایک جبری امانت کی سکیم ہوگی اور اس سے سارے ملک میں تجارتی ڈ کا نہیں جاری کی جائیں گی اور پھر ترقی کرتے ہوئے بعض کارخانے بھی کھولے جائیں گے۔اس غرض کیلئے جو رقم جمع ہوگی وہ ساری کی ساری جماعت کی ہوگی اور نفع بھی جماعت کا ہی ہو گا۔صرف اُن کو تجارت کی اہمیت اور اس کی ضرورت سمجھانے کیلئے یہ جبری طریق جاری کیا جائے گا۔ماں باپ کا فرض ہوتا ہے اگر ان کے بچے محبت اور پیار سے کوئی بات نہ سمجھیں تو جبر سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔آپ لوگ میرے اور سلسلہ کے بچے ہیں اگر آپ لوگوں میں بیداری پیدا نہ ہوئی تو محض آپ کے فائدہ کیلئے ہر شخص کی حیثیت کے مطابق کچھ جبری چندہ عائد کیا جائے گا۔میں سمجھتا ہوں آجکل کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ہر کمانے والے فرد سے کم از کم ایک روپیہ چندہ لیا جائے اور جو لوگ زیادہ دے سکتے ہوں وہ زیادہ دیں تو مالی لحاظ سے یہ کوئی خاص بوجھ نہیں ہوگا بلکہ اگر پچاس ساٹھ ہزار یا ایک لاکھ تک اس میں حصہ لینے والے نکل آئے تو ممکن ہے یہ چندہ ایک روپیہ سے بھی کم کر دیا جائے مثلاً آٹھ آنے کر دیا جائے یا چار آنے کر دیا جائے۔اس روپیہ سے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دُکانیں کھولی جائیں گی اور کچھ کارخانے جاری کئے جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان کو ترقی دینے کی کوشش کی جائے گی۔ہماری جماعت زیادہ تر ملازموں اور زمینداروں کی جماعت ہے۔تجارت کی طرف اس کی بہت کم توجہ ہے اور یہ توجہ نہیں ہو سکتی جب تک ایک رنگ کا جبران پر نہ کیا جائے۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ہر شخص یا ہر جماعت پر کچھ نہ کچھ رقم اُس کی حیثیت کے مطابق بطور چندہ عائد کر دی جائے گی اور اس سے تجارتی دُکانیں اور کارخانے قائم کئے جائیں گے مالک وہی ہونگے ہم صرف مربی کے طور پر کام کریں گے۔تجارتی لحاظ سے میں جماعت کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آڑھت کا کام