انوارالعلوم (جلد 19) — Page 388
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۸ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء ہوئے اسلامستان کی بنیا د رکھیں۔ہم نے اسلام کو اس کی پرانی شوکت پر پھر قائم کرنا ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے، ہم نے عدل اور انصاف کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور ہم نے عدل و انصاف پر مبنی پاکستان کو اسلامک یونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے یہی اسلامستان ہے جو دنیا میں حقیقی امن قائم کرے گا اور ہر ایک کو اس کا حق دلائے گا۔جہاں روس اور امریکہ فیل ہوا صرف مکہ اور مدینہ ہی انشاء الله کامیاب ہوں گے۔یہ چیزیں اس وقت ایک پاگل کی بڑ معلوم ہوتی ہیں مگر دنیا میں بہت سے لوگ جو عظیم الشان تغیر کرتے ہیں وہ پاگل ہی کہلاتے رہے ہیں اگر مجھے بھی لوگ پاگل کہہ دیں تو میرے لئے اِس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔میرے دل میں ایک آگ ہے، ایک جلن ہے، ایک تپش ہے جو مجھے آٹھوں پہر بے قرار رکھتی ہے۔میں اسلام کو اس کی ذلّت کے مقام سے اُٹھا کر عزت کے مقام پر پہنچانا چاہتا ہوں۔میں پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانا چاہتا ہوں۔میں پھر قرآن کریم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ یہ بات میری زندگی میں ہوگی یا میرے بعد لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میں اسلام کی بلند ترین عمارت میں اپنے ہاتھ سے ایک اینٹ لگانا چاہتا ہوں یا اتنی اینٹیں لگانا چاہتا ہوں جتنی اینٹیں لگانے کی خدا مجھے توفیق دے دے۔میں اس عظیم الشان عمارت کو مکمل کرنا چاہتا ہوں یا اس عمارت کو اتنا اونچا لے جانا چاہتا ہوں جتنا اونچا لے جانے کی اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے اور میرے جسم کا ہر ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت اس کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خرچ ہوگی اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی میرے اس ارادہ میں حائل نہیں ہوگی۔میں جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنے نقطہ نگاہ کو بدلیں۔وہ زمانہ گیا جب ایک غیر قوم اُن پر حکمران تھی اور وہ محکوم سمجھے جاتے تھے۔میں اُس زمانہ میں بھی اپنے آپ کو غلام نہیں سمجھتا تھا لیکن چونکہ ایک غیر قوم ہم پر حکمران تھی کبھی کبھی خواہش پیدا ہوتی کہ ہندوستان کو چھوڑ دیں اور کسی اسلامی ملک میں جا کر رہنا شروع کر دیں مگر اب اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم جہازوں میں بیٹھتے اور دُور کسی اسلامی ملک مثلاً عرب یا حجاز