انوارالعلوم (جلد 19) — Page 389
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء میں جاتے قادیان سے صرف اٹھائیس میل کے فاصلہ پر اُس نے ہمیں وہ ملک دے دیا جو عمل کرے یا نہ کرے کہلا تا خدا کا ہے، کہلا تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔میں ملک کی تقسیم کا حامی نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لئے بہت بڑی خوشی کا مقام ہے کہ چاہے اُس نے ایک چھوٹی چیز دے دی مگر اپنی تو دے دی۔اُس ملک میں اگر میں یہ کہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہتے ہیں تو سننے والا میری بات سن کر ہنس پڑے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا کیا تعلق ہے۔یہاں کوئی میری بات مانے نہ مانے سُنے نہ سُنے جب میں یہ کہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کہتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ایک حکومت قائم ہوگئی ہے۔وہ حقیقت میں ایسی ہے یا نہیں یہ ایک الگ سوال ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ایک حکومت قائم ہے۔پس اس تصور سے میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔میں اُن غموں کو بھول جاتا ہوں جو ہندوستان میں ہمیں پیش آئے اس لئے کہ میرا مکان میرے ہاتھ سے جاتا رہا مگر میرے آقا کو ایک مکان مل گیا۔یہ درست ہے کہ چوالیس لاکھ مسلمانوں کے مکان اُن کے ہاتھ سے جاتے رہے، وہ گھروں سے بے گھر ہو گئے ، وہ جائدادوں سے بے دخل ہو گئے مگر ایک ایسی جگہ ضرور پیدا ہوگئی ہے جس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری جگہ ہے اور یہ خوشی ہماری اپنی جائدادوں کے کھوئے جانے سے بہت زیادہ ہے۔مثل مشہور ہے کہ مجھے کھڑا ہونے کی جگہ دو بیٹھنے کی جگہ میں آپ ہی بنالوں گا۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کھڑے ہونے کی جگہ دی ہے اب وہ بے وقوف ہوگا اگر وہ کھڑا ہی رہے اور بیٹھنے کی جگہ نہ بنائے مگر یہ کہ وہ کس طرح جگہ بنائے یہ ایک لمبا مضمون ہے جس کے بیان کرنے کی اس وقت گنجائش نہیں لیکن میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم یہ جگہ بنا سکتے ہیں اور بغیر فساد اور لڑائی کے بنا سکتے ہیں۔گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ میں آہنسا کے سے ( وہ آہنسا جس کی چادر کی دھجیاں تک ان کے پیروؤں نے اُڑا دی ہیں ) ہندوستان سے انگریزوں کو نکال سکتا ہوں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کی اہنسا اور اس کی محبت اور امن کی تعلیم سے آپ لوگ ساری دنیا کے بادشاہ بن سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اُن طریقوں کو