انوارالعلوم (جلد 19) — Page 387
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸۷ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء ہمیں مل گیا تو اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اصل وطن کی یا داپنے دلوں میں زندہ رکھیں اور ہندو اور مسلمان دونوں باہمی تعاون اور اتفاق کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے میری پہلی کوشش یہی ہوگی کہ ہندوستان یونین اور پاکستان میں سمجھوتہ کرایا جائے تا کہ دونوں مل کر کام کریں اور اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہیں لیکن اس کے ساتھ ہی میری دوسری کوشش یہ ہے کہ پاکستان کو مضبوط بنایا جائے۔جب سے میں یہاں آیا ہوں میں نے پاکستان کی مضبوطی کے متعلق حکومت کے ذمہ دار افسروں کے سامنے مختلف امور رکھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ اس حکمت کے ماتحت مجھے قادیان سے نکال کر یہاں لایا ہے۔مسلمانوں کی ایک مضبوط حکومت کے قیام میں میں اُن کی مدد کر سکوں اور پاکستان آئندہ بنے والے اسلامستان کی ایک مضبوط اساس بن جائے۔جس طرح میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ہندوستان کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس کا پاکستان کے ساتھ اتحاد نہیں ہو سکتا یا یہ کہا جائے کہ اب ہم اُس ملک کے باشندے نہیں رہے اسی طرح میں یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ پاکستان کو کوئی ضعف پہنچے مگر پھر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایک چھوٹی چیز ہے ہمیں اپنا قدم اس سے آگے بڑھانا چاہئے۔بیشک پاکستان بھی ایک اہم چیز ہے۔بے شک عرب بھی ایک اہم چیز ہے۔بیشک حجاز بھی ایک اہم چیز ہے، بے شک مصر بھی ایک اہم چیز ہے، بے شک ایران بھی ایک اہم چیز ہے مگر پاکستان اور عرب اور حجاز اور دوسرے اسلامی ممالک کی ترقیات صرف پہلا قدم ہیں۔اصل چیز اسلامستان کا قیام ہے اصل چیز دنیا میں اسلامستان کا قیام ہے۔ہم نے پھر سارے مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے ، ہم نے پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام ممالک میں لہرانا ہے، ہم نے پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عزت اور آبرو کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔ہمیں پاکستان کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے، ہمیں مصر کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہے ، ہمیں عرب کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے، ہمیں ایران کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے مگر ہمیں حقیقی خوشی تب ہوگی جب سارے ملک آ پس میں اتحاد کرتے