انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 17

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۱۷ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر نیاز میں دے جاتے تھے مگر اب چونکہ حالات بدل گئے ہیں اس لئے ان کو مانگنا پڑتا ہے۔اُس زمانہ میں تو مکہ کے ایک حصہ کا گزارہ ہی نذروں اور نیازوں پر تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نذروں اور نیازوں سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے سفر کرتے تھے کہ آپ کو مجبور امہمان نوازی کرنی پڑتی ، نہ ہی آپ کو کسی کے ساتھ کوئی سیاسی یا اقتصادی غرض تھی۔ادھر مکہ والوں کی مہمان نوازی اس غرض کے ماتحت ہوتی تھی کہ اب ہم مہمان نوازی کرتے ہیں جب ہم ان کے پاس جائیں گے تو یہ ہماری مہمان نوازی کریں گے۔مگر آپ نے تو اس قسم کا سفر ہی کبھی نہ کیا تھا آپ تو غار حرا میں عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے آپ کا تعلق نہ نذرو نیاز سے تھا نہ کسی اور غرض کے ساتھ پس آپ کی مہمان نوازی اور مکہ والوں کی مہمان نوازی میں نمایاں فرق تھا۔آپ کا یہ فعل صرف خدا تعالیٰ کے لئے تھا اور مکہ والوں کا یا دوسرے عربوں کا یہ فعل اپنے نفس کے لئے اور اپنے حالات سے پیدا شدہ مجبوری کے ماتحت تھا۔پس اس طرح کسی کو کھانا کھلانا یا مہمان نوازی کرنا کہ کل جب میں اس کے پاس جاؤں گا تو یہ میری مہمان نوازی کرے گا اس کو فعل حسن تو کہا جا سکتا ہے خُلق فاضل نہیں کہا جا سکتا خلق فاضل وہ ہے جس میں اپنے نفس کا خیال نہ ہو بلکہ وہ فعل صرف خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا جا رہا ہو۔پس عربوں کی مہمان نوازی Forces of Events کی وجہ سے تھی ورنہ ان کے مد نظر خدمت خلق یا خدا تعالیٰ کی خوشنودی نہ تھی وہ اپنے حالات گردو پیش سے ایسا کرنے پر مجبور تھے۔خانہ بدوش قو میں جن میں شہریت نہیں ہوتی لازمی طور پر مہمان نوازی کے لئے مجبور ہوتی ہیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے حالات تباہ ہو جائیں۔عرب لوگ جہاں مہمان نواز ہیں وہاں اگر کوئی شخص ان کے منشاء کے خلاف کچھ کر گزرے تو سخت گیر بھی ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی ہندوستانی حج کرنے جارہا تھا کہ راستہ میں ایسی حالت میں کہ اس کے پاس نہ پیسہ تھا اور نہ سامان خور و نوش اپنے قافلہ سے بچھڑ گیا وہ اِدھر اُدھر کھانے کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ اسے ایک عرب کی جھونپڑی نظر آئی وہ اس طرف چلا گیا اور کہا میں بھوک سے نڈھال ہو رہا ہوں اور میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں مجھے کھانا دووہ عرب غریب آدمی تھا اس کے پاس اور تو کچھ نہ تھا ، عرب کے جنگلوں اور صحراؤں میں ایسا ہوتا