انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 18

انوار العلوم جلد ۱۹ ΙΔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر ہے کہ پانی کی دھاریں زمین کے نیچے بہتی ہیں اور کہیں کہیں زمین کے اوپر آ جاتی ہیں اور پھر غائب ہو جاتی ہیں اسی طرح اس عرب کی جھونپڑی کے پاس پانی کی دھار زمین کے اوپر تھی اور اس نے کنال دو کنال ٹکڑے میں تربوز بوئے ہوئے تھے ، عرب نے اس میں سے تربوز تو ڑ کر مہمان کو دینے شروع کئے جو کچاتر بوز ہوتا وہ پھینک دیتا اور جو پکا ہوتا وہ مہمان کو دے دیتا۔جب مہمان کا پیٹ بھر گیا تو عرب تلوار لے کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہا کھڑے ہو جاؤ وہ ہندوستانی بیان کرتا تھا کہ میں عرب کے اس فعل سے سخت متعجب ہوا کہ پہلے تو اس نے مجھے تربوز | تو ڑ تو ڑ کر کھلائے اور اب یہ تلوار سونت کر میرے سر پر آن کھڑا ہوا ہے۔چنانچہ ہندوستانی نے پوچھا کیا بات ہے؟ عرب نے کہا بات کیا ہے کھڑے ہو جاؤ۔وہ کھڑا ہوا تو عرب نے اس کی اچھی طرح سے تلاشی لی اور یہ دیکھ کر کہ اس کے پاس سے کچھ نہیں نکلا چھوڑ دیا اور کہنے لگا میں نے تمہاری مہمان نوازی کے لئے اپنا سارا کھیت تباہ کر دیا تھا مگر میں نے مہمان نوازی کا حق تو ادا کر دیا اب میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم نے جو کہا تھا کہ میرے پاس کچھ نہیں آیا تم نے یہ سچ کہایا جھوٹ؟ اگر تمہارے پاس سے کچھ نکل آتا تو میں تمہیں ضرور مار دیتا کیونکہ یہی ایک کھیت تھا جس پر میرا اور میرے بیوی بچوں کا گزارہ تھا اور یہ میں نے تمہاری مہمان نوازی کے لئے تباہ کر دیا گویا میں نے اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔اسی طرح وزیرستان وغیرہ کے پٹھان سٹرک پر سے گزرتے ہوئے لوگوں کو مار دیتے ہیں اور ان کے مال چھین کر لے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص سڑک سے ہٹ کر ان کے گھر میں پہنچ جائے تو وہ اس کی بڑی آؤ بھگت کرتے ہیں اور مہمان نوازی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔یہ مہمان نوازی تو ہے لیکن مہمان نوازی کی غرض کیا ہے؟ اگر ان کی یہ مہمان نوازی خدا کے لئے ہو تو سڑک پر جانے والوں کے لئے بھی ہو۔مگر نہیں سڑک پر جانے والوں کے وہ کپڑے بھی اُتار لیتے ہیں۔پس یہ فرق ہے فعلِ حسن اور خُلق فاضل میں۔اسلام جب کہتا ہے کہ عربوں کے اندر کوئی خوبی نہ تھی تو وہ اس نقطۂ نگاہ سے کہتا ہے کہ ان کے اس قسم کے افعال اخلاق فاضلہ نہ تھے یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ اسلام کا نقطۂ نگاہ غلط ہے۔ایسی صورت میں اس بات پر بحث ہوگی کہ یہ نقطۂ نگاہ غلط ہے یا صحیح لیکن اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جو فعل اپنی اغراض کے پیش نظر سیاسی یا