انوارالعلوم (جلد 19) — Page 16
۱۶ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر انوار العلوم جلد ۱۹ ا يحسب أن لم يرَة احد فرماتا ہے ہم یہ تو نہیں کہتے کہ تم نے مال خرچ نہیں کیا سوال تو یہ ہے کہ تم نے جو مال خرچ کیا ہے وہ کس نیت اور ارادہ کے ساتھ کیا ہے۔دوسری مثال میں نے کل بھی بیان کی تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی با روحی کا نزول ہوا تو آپ گھبرائے ہوئے گھر پہنچے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا لَقَدْ خَشِيتُ عَلى نَفْسِى یعنی میں اپنے نفس کے متعلق ڈرتا ہوں کہ جو بوجھ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ڈالا ہے اس میں میرا نفس کہیں کمزوری نہ دکھا جائے اور میں اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داری کو ادا کرنے سے قاصر نہ رہ جاؤں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد نہ بن جاؤں۔اس کے جواب میں حضرت خدیجہ نے منجملہ آپ کی اور صفات اور اخلاق فاضلہ بیان کرنے کے ایک خُلق فاضل یہ بھی بیان کیا کہ إِنَّكَ تَقْرِى الضَّيْفَ آپ مہمان نواز ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔حالانکہ حضرت خدیجہ جانتی تھیں کہ عربوں کے اندر مہمان نوازی پائی جاتی ہے لیکن پھر بھی کہا کہ كَلَّا أَبْشِرُ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَداً إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيْتَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ یعنی خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ کے اندر مہمان نوازی کی صفت پائی جاتی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت خدیجہ اس بات کو سمجھتی تھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی اور عربوں کی مہمان نوازی میں فرق ہے۔مکہ والے اگر مہمان نوازی کرتے تھے تو وہ نذروں اور نیازوں کے لئے کرتے تھے اب بھی چلے جاؤ اور دیکھ لو وہ اس طرح مہمان کے پڑ جاتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔جب کوئی جاتا ہے تو اس کو کہتے ہیں آئے ہمارے ہاں تشریف لائیے یہ آپ ہی کا مکان ہے اور ہمارے ہاں آپ کو ہر قسم کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ایک پنجابی تو ان کی باتوں سے یہ خیال کرے گا کہ یہ کہاں سے ہمارے رشتہ دار نکل آئے کہ اس طرح کھینچ کھینچ کر اپنے گھر لئے جاتے ہیں مگر وہ مہمان کو ساتھ لے جائیں گے اور کھانا وغیرہ کھلانے کے بعد کہیں گے میں مطوف ہوں لائیے میری فیس تب جا کر آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو اپنی فیس کے لئے ایسا کر رہے تھے ورنہ اس سے پہلے وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ میرے حقیقی رشتہ دار معلوم ہوتے ہیں۔پرانے زمانہ میں وہ خود نہ مانگتے تھے بلکہ لوگ ان کو نذریں اور