انوارالعلوم (جلد 19) — Page 288
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۸ الفضل کے اداریہ جات کی بھی مرہون منت ہے۔چنانچہ آپ غور سے پنڈت دیا نند کی تحریریں پڑھیں گے تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ آپ اتنے مذہب کیلئے نہیں جتنے آریہ ورت کیلئے بیقرار تھے اور آریہ تحریک مذہبی نہیں بلکہ وطنی اور قومی تحریک ہے۔مذہب کو محض ملکی اور قومی مقاصد کا ذریعہ سمجھ کر اُچھالا گیا ہے اور اسلام اور عیسائیت کے خلاف نفرت مذہبی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ سیاسی نقطہ نظر سے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی تعصب نے جو دیدہ دانستہ غیر مسلموں میں ان کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے پھیلا یا ان کو اسلامی قانون کے صحیح تصور کے ادراک سے محروم کر دیا ہے۔دوسری بات جو اس تعصب کو غیر مسلموں کے دلوں میں پختہ کرنے اور تقویت دینے میں بڑی حد تک مد و و معاون ثابت ہوئی خود مسلمانوں کا عمل ہے۔جوں جوں اسلام نئی قوموں میں پھیلتا گیا توں توں اسلام کی ہیئت کذائی ہر قوم کی ذہنیت کے مطابق بدلتی چلی گئی۔مختلف قوموں نے اسلام کی چند ظاہری خوبیوں سے متاثر ہو کر اس کو قبول تو کر لیا مگر اس کے مقتضیات کی گنہہ پر حاوی نہ ہوسکیں اور اس کے مرکزی اصولوں کو جذب نہ کر سکیں بلکہ الٹا اسلام کے چہرے پر اپنی قدیم رسم و رواج اور معتقدات کے پر دے چڑھا دیئے اور اسلامی شریعت میں ایسی باتیں اپنی طرف سے داخل کر لیں جن کو اسلام سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اسلام کی حقیقت ان لوگوں پر واضح نہیں ہو سکتی تھی جن تک اسلام ایسی قوموں کے ذریعہ پہنچا جنہوں نے اسلامی شریعت کے آفتاب کو اپنے پرانے خیالات کے بادلوں سے ڈھانپ دیا تھا۔غیر مسلموں میں اسلامی شریعت کے متعلق غلط فہمی پھیلنے کی یہ دو موٹی وجوہات ہیں اور ان کے دلوں میں اسلامی شریعت کے خلاف نفرت کی گرہ ایسی مضبوط پڑ گئی ہے کہ وہ اس کے نام سے بھی چڑ جاتے ہیں اس لئے اس بدظنی کو دور کرنے کیلئے اوّل تو خود مسلمانوں کو اپنے اعمال کے ذریعہ اسلام کا صحیح نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔دوسرے مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کی طرف کما حقہ توجہ مبذول کریں۔غیر مسلموں میں سادہ اور آسان طریقوں سے اسلامی شریعت کے موٹے موٹے اصولوں کو پھیلانے کے لئے ایک شعبہ نشر واشاعت کا قائم کیا جائے جس کی غرض صرف اتنی ہو کہ جو تعصب کا جن غیر مسلموں کے