انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 287

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۷ الفضل کے اداریہ جات اسلامی قانون اور غیر مسلم اقلیتیں پنجاب مسلم لیگ کونسل میں یہ قرارداد بھی پاس کی گئی ہے کہ پاکستان میں اسلامی شریعت کو نافذ کرنا چاہئے اس ضمن میں اس حقیقت کو نظر انداز نہ کیا جائے کہ غیر مسلموں نے بوجہ نا واقفیت اسلامی قانون یا مذہبی قانون کے خلاف اکثر اظہار رائے کیا ہے۔ان کے خیال میں اگر پاکستان میں اسلامی شریعت جاری کی گئی تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ غیر مسلموں کے لئے کوئی سامان ترقی اپنی تہذیب، اپنے مذہب اور دوسرے کاروبار کے لئے نہیں رہے گا اور یہ غیر مسلموں پر سختی ہوگی اور ان کے لئے ایسی حکومت کے زیر سایہ جس میں اسلامی قانون رائج ہو زندگی دو بھر ہو جائے گی۔جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے یہ محض ایک غلط نہی ہے جو اسلامی قانون کو صحیح طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے غیر مسلموں کے دماغ میں پیدا ہو گئی ہے یا پیدا کی گئی ہوئی ہے کچھ تو خود لکھے پڑھے غیر مسلموں نے اسلامی قانون کے متعلق دیدہ دانستہ یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً عیسائی پادریوں نے یورپ میں اسلام کو اس طرح پیش کیا کہ گویا اس میں کوئی خوبی ہے ہی نہیں بلکہ یہ مذہب صرف وحشیوں میں پنپ سکتا ہے مہذب اقوام کے لئے اس میں کوئی پیغام نہیں۔ان عیسائیوں کی تقلید میں ہندوستان میں پنڈت دیا نند اور اس کے پیراؤں نے ہندوؤں میں اس غلط نہی کو پھیلانے میں بڑا حصہ لیا۔غیر مسلموں میں اس خیال کو دو وجوہات سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ایک تو یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے اکثر ممالک میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے یہ ایک رو تھی کہ جس ملک میں بھی مسلمانوں کا اقتدار قائم ہوا، وہاں اکثر لوگ اپنے پرانے مذہب کو چھوڑ کر اسلام اختیار کرتے رہے لیکن ان میں سے جو لوگ اپنے قدیم مذہب کے لئے تعصب رکھتے تھے اُنہوں نے بجائے اس کے کہ اسلام کی داخلی خوبیوں پر قبول اسلام کو محمول کرتے اس کو محض مسلمانوں کے دنیوی اقتدار پر محمول کیا اور یہ غلط خیال دل میں جمالیا کہ ان کے بھائی بندوں نے محض جبر کے سامنے اپنے ہتھیار ڈالے ہیں۔مذہب کے علاوہ اس تعصب کی بنا ء حب الوطنی کے غلط جذبات