انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 138

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۸ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔لے گئے تو وہ بھی اپنے کام کاج میں لگ گئی۔شام کے وقت حمزہ اپنی سواری کو دوڑاتے ہوئے آئے اور روچی بنے ہوئے تیر کمان کو ایک عجیب انداز سے پکڑے ہوئے دروازہ سے اندر آئے۔اُس وقت ان کی چال ڈھال اس قسم کی تھی جیسے عام طور پر بڑے زمینداروں کے لڑکے کرتے ہیں۔غرض وہ ایک عجیب تمکنت کے ساتھ سر کو اٹھائے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔اُس وقت ان کی اُٹھی ہوئی گردن ان کے خیالات کی ترجمانی کر رہی تھی کہ دیکھو میں کتنا بہادر اور دلیر ہوں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان کی گردن ہر سا منے آنے والے کو دعوت دے رہی ہے کہ ہے کوئی بہادر جو میرے مقابلہ کی تاب لا سکے۔جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو ان کی وہ لونڈی جو بڑی دیر سے اپنے غصہ اور غم کے جذبات کو بمشکل دبائے بیٹھی تھی اس نے گرج کر کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔حمزہ یہ سن کر حیران رہ گئے اور تعجب سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ لونڈی نے کہا معاملہ کیا ہے تمہارا بھتیجا محمد ( ﷺ ) یہاں بیٹھا تھا کہ ابو جہل آیا اور اُس نے محمد پر حملہ کر دیا اور بے تحاشہ گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر اُس کے منہ پر تھپڑ مارا مگر محمد نے آگے سے اُف تک نہ کی اور خاموشی کے ساتھ سنتا رہا۔ابو جہل گالیاں دیتا گیا اور دیتا گیا اور جب تھک گیا تو چلا گیا مگر میں نے دیکھا کہ محمد نے اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو اور شکار کھیلتے پھرتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہاری موجودگی میں تمہارے بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔حمز کا اُس وقت مسلمان نہ تھے اور ریاست کی وجہ سے ان کا دل اسلام کو ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔وہ یہ تو سمجھتے تھے کہ محمد کی باتیں سچی ہیں مگر وہ اپنے جاہ و جلال اور شان و شوکت کو ایمان پر قربان کرنے کے لئے تیار نہ تھے مگر جب انہوں نے اپنی لونڈی کی زبانی یہ واقعہ سنا تو اُن کی آنکھوں میں خون اُتر آیا اور ان کی خاندانی غیرت جوش میں آئی چنانچہ وہ اسی طرح بغیر آرام کئے غصہ سے کانپتے ہوئے کعبہ کی طرف روانہ ہو گئے اور کعبہ کا طواف کرنے کے بعد اُس مجلس کی طرف بڑھے جس میں ابو جہل بیٹھا ہوا لاف زنی کر رہا تھا اور اُسی صبح والے واقعہ کو مزے لے کر بڑے تکبر کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان کر رہا تھا کہ آج میں نے محمد ( ﷺ ) کو یوں گالیاں دیں اور آج میں نے محمد کے ساتھ یوں کیا۔حمزہ جب اس مجلس میں پہنچے تو انہوں نے جاتے ہی کمان بڑے ا