انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 139

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات زور کے ساتھ ابو جہل کے سر پر ماری اور کہا تم اپنے بہادری کے دعوے کر رہے ہو اور لوگوں کو سنا رہے ہو کہ میں نے محمد کو اس طرح ذلیل کیا ہے اور محمد نے اُف تک نہیں کی لے اب میں تجھے ذلیل کرتا ہوں اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔ابو جہل اُس وقت مکہ کے اندر ایک بادشاہ کی سی حیثیت رکھتا تھا اس لئے جب اس کے ساتھیوں نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ جوش کے ساتھ اُٹھے اور انہوں نے حمزہ پر حملہ کرنا چاہا مگر ابوجہل جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموشی کے ساتھ گالیاں برداشت کرنے کی وجہ سے اور حمزہ کی دلیری اور جرات کی وجہ سے مرعوب ہو گیا تھا بیچ میں آگیا اور ان کو حملہ کرنے سے روک دیا اور کہا تم لوگ جانے دو دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے ہی زیادتی ہوئی تھی اور حمز حق بجانب ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جس وقت صفا اور مروہ کی پہاڑیوں سے واپس گھر آئے تھے اپنے دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ میرا کام لڑنا نہیں ہے بلکہ صبر کے ساتھ گالیاں برداشت کرنا ہے مگر خدا تعالیٰ عرش پر کہہ رہا تھا آليس الله بکاف عبده اے محمد ام تو لڑنے کے لئے تیار نہیں مگر کیا ہم موجود نہیں ہیں جو تیری جگہ تیرے دشمنوں کا مقابلہ کریں؟ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُسی دن ابو جہل کا مقابلہ کرنے والا ایک جاں نثار آپ کو دے دیا اور حضرت حمز گانے اسی مجلس میں جس میں کہ انہوں نے ابو جہل کے سر پر کمان ماری تھی اپنے ایمان کا اعلان کر دیا اور ابو جہل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو نے محمد اللہ کو گالیاں دی ہیں صرف اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں اور فرشتے مجھ پر اُترتے ہیں، ذرا کان کھول کر سن لو میں بھی آج سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ہوں اور میں بھی وہی کچھ کہتا ہوں جو محمد کہتا ہے اگر تجھ میں ہمت ہے تو آ میرے مقابلہ پر۔یہ کہہ کر حمزہ مسلمان ہو گئے۔۱۵ اس کے بعد جب قریش مکہ نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہور ہے ہیں اور یہ بات ان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے تو انہیں نے مسلمانوں کو انتہا درجہ کی تکلیفیں دینی شروع کیں اور اپنی ایذا رسانی کو کمال تک پہنچا دیا یہاں تک کہ مکہ کے اندر مسلمانوں کے لئے امن بالکل مٹ گیا۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا اب دشمنوں کی طرف سے ہم پر اتنے ستم ڈھائے جا رہے ہیں جو ہماری حد برداشت سے باہر ہیں اس لئے