انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 137

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۷ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات ترکیبیں نکالیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گوغریب تھے مگر آپ کا خاندان مکہ کے اعلیٰ خاندانوں میں شمار ہوتا تھا اور آپ کا تعلق ایسے خاندان سے تھا جو خانہ کعبہ کے متولی تھے مگر لوگوں نے آپ پر بھی سختی کرنی شروع کر دی۔ایک دن آپ صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان ایک پتھر پر بیٹھے سوچ رہے تھے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کیا جائے کہ اتنے میں ابو جہل آ گیا اور اس نے آتے ہی کہا محمد ! تم اپنی باتوں سے باز نہیں آتے یہ کہہ کر اس نے آپ کو سخت غلیظ گالیاں دینی شروع کیں۔آپ خاموشی کے ساتھ اس کی گالیوں کو سنتے رہے اور برداشت کیا اور ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا۔ابو جہل جب جی بھر کر گالیاں دے چکا تو اس کے بعد وہ بد بخت آگے بڑھا اور اس نے آپ کے منہ پر تھپڑ مار دیا مگر آپ نے پھر بھی اسے کچھ نہیں کہا آپ جس جگہ بیٹھے تھے اور جہاں ابو جہل نے آپ کو گالیاں دی تھیں وہاں سامنے ہی حضرت حمزہ کا گھر تھا۔حمزہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے ان کا معمول تھا کہ ہر روز صبح سویرے تیر کمان لے کر شکار کے لئے نکل جاتے تھے اور سارا دن شکار کھیلتے رہنے کے بعد شام کو واپس آ جایا کرتے تھے اور شام کو قریش کی مجالس کا دورہ کیا کرتے تھے۔اُس دن بھی جس دن کہ ابو جہل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور تھپڑ مارا حمزہ باہر شکار کے لئے گئے ہوئے تھے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جس وقت ابو جہل آپ پر بار بار حملہ کر رہا تھا تو حضرت حمزہ کی ایک لونڈی نے دروازہ میں کھڑے ہو کر یہ نظارہ دیکھا کہ ابو جہل بار بار آپ پر حملہ کر رہا ہے اور بے تحاشا گالیاں آپ کو دے رہا ہے اور آپ خاموشی اور سکون کے ساتھ اس کی گالیوں کو برداشت کر رہے ہیں۔وہ لونڈی دروازے میں کھڑے ہو کر یہ سارا نظارہ دیکھتی رہی وہ بے شک ایک عورت تھی اور کافر تھی لیکن پرانے زمانہ میں جہاں مکہ کے لوگ اپنے غلاموں پر ظلم کرتے تھے وہاں یہ بھی ہوتا تھا کہ بعض شرفاء اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتے تھے اور آخر کافی عرصہ گزرنے کے بعد وہ غلام اسی خاندان کا ایک حصہ سمجھے جاتے تھے اسی طرح حضرت حمزہ کی وہ لونڈی بھی تھی اُس نے جب یہ سارا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تو اُس پر اِس کا بہت زیادہ اثر ہوا مگر وہ کر کچھ نہ سکتی تھی وہ دیکھتی اور سنتی رہی اور اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہی اور جلتی رہی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر تشریف