انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 374

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۷۴ تقریر جلسه سالانه ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء ذریعہ ہر شخص خدا تعالیٰ کے خزانہ میں سے ایک نئی دریافت کر سکتا ہے۔دیکھو! جتنی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ایک حصہ حیرت اور تعجب کا بھی ہوتا ہے وہ انسان کو زیادہ پسند ہوتی ہیں۔بکری اور مرغی کا گوشت کھانے میں انسان کو اتنا مزہ نہیں آتا جتنا شکار میں مزا آتا ہے۔لوگ کنڈی لگا کر سارا دن مچھلی کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور اس میں وہ ایک لذت اور سرور محسوس کرتے ہیں۔سائنس کا علم بھی مچھلی پکڑنے والا شغل ہے۔ہر فردا گر چاہے تو اس ذریعہ سے ایک نئی چیز نکال کر دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے اور یہ جو فطری طور پر انسان کے اندر خواہش ہوتی ہے کہ میں کسی نئی چیز کی دریافت کروں یہ پوری ہو جاتی ہے۔پس نو جوانوں کو خصوصیت سے سائنس کی طرف توجہ کرنی چاہئے یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان سائنس کی طرف توجہ کر رہے ہیں مگر موجودہ توجہ سے انہیں زیادہ توجہ کرنی چاہئے بلکہ آرٹ کی نسبت بھی سائنس کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔ہمارے منتظمین کو چاہئے کہ وہ سائنس کا سامان زیادہ مہیا کریں اور طالبعلموں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا محنتی بنائیں کہ کالج یا سکول والوں کو اُنہیں لینے میں کوئی عذر نہ ہو۔چندوں کو بڑھا ئیں مجلس شوری میں کل میں نے بیان کیا تھا کہ جماعت کے چندوں پر موجودہ فتنہ کا بہت اثر پڑا ہے۔اوّل تو ہماری جماعت کا چھپیں فیصد حصہ مشرقی پنجاب سے اُجڑ کر آ گیا ہے اور ان کی وجہ سے جو آمد تھی وہ جاتی رہی۔دوسری طرف جب وہ مغربی پنجاب میں اپنے رشتہ داروں کے پاس آ کر ٹھہرے تو طبعی طور پر ان پر بھی بوجھ پڑا۔احمدیت کی وجہ سے ہمارے ہاں شادیاں بالعموم اسی طریق پر تھیں کہ مردا گر حصار کا رہنے والا ہے تو اس نے راولپنڈی میں شادی کر لی اس وجہ سے مشرقی پنجاب والوں کے بہت سے رشته دار مغربی پنجاب میں موجود تھے۔جب انہوں نے مشرقی پنجاب سے آنے والوں کو پناہ دی اور اُن کا بوجھ اُٹھایا تو ان کی مالی حالت پر بھی اس کا اثر پڑا اور ان کے چندوں میں بھی کمی واقع ہونے لگی۔اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ بعض ادارے ایسے ہیں جن کو پانچ پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں اور جب انہیں تنخواہیں ہی نہیں ملیں تو وہ چندے کہاں سے دیں لیکن بہر حال خدا کا کام ہم نے ہی کرنا ہے اور جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اسے سرانجام دینا ہمارا ہی فرض