انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 373

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۷۳ تقریر جلسه سالانه ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء کرے۔تعلیم الاسلام کا لج اب لاہور میں کھل گیا ہے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ میں ہے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے لڑکوں کو فوری طور پر ان درسگاہوں میں بھجوا دیں اس میں کوئی حبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں ہمارا سائنس کا سامان ضائع ہو گیا ہے مگر بہر حال تعلیم جاری رکھنے کیلئے ہم نے فورمن کرسچین کالج (F۔C۔College) والوں سے سائنس کا سامان مستعار طور پر لیا ہے ایک دو ماہ تک اس سے کام چلائیں گے۔اس کے علاوہ میں نے یورپ اور امریکہ میں بھی سائنس کے سامان کے متعلق خطوط لکھے ہوئے ہیں کچھ سامان مل گیا ہے اور کچھ ابھی تک نہیں ملا۔بہر حال اپنے کالج میں اپنے انتظام کے ماتحت لڑ کے تعلیم تو جاری رکھ سکتے ہیں۔لڑکوں کو تعلیم کی اہمیت لیکن آئندہ کے لئے جماعت کو یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ لڑکوں کی تعلیم ایک نہایت اہم چیز ہے خود انہیں بھوکا رہنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں، پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اولا دکوضرور تعلیم دینی چاہئے۔یہ تعلیم کیسی ہونی چاہئے؟ اسے میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں۔بہر حال قرآن کریم ہر ایک کو آنا چاہئے ، احادیث کا کسی قدر علم ہر ایک کو ہونا چاہئے ، کچھ مسائل فقہیہ اور دینیہ بھی ہر ایک کو آنے چاہئیں ، اسلام کی خوبیوں اور غیر مذاہب کے اعتراضات کے جواب بھی ہر ایک کو آنے چاہئیں۔ہر ایک کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام نے جو احکام دیئے ہیں ان کے کیا فوائد ہیں اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان کے کیا نقصانات ہیں یہ ضروری علوم ہیں اس کے ساتھ ہی دُنیوی علوم کا جاننا بھی ضروری ہے۔ہم ابھی نہیں کہہ سکتے آیا پاکستان میں ذریعہ تعلیم اُردو ہو گا یا انگریزی۔یہ معاملہ ابھی زیر بحث ہے لیکن بہر حال جو ضروری علوم ہیں ان سے ہمیں غافل نہیں ہونا چاہئے۔خصوصاً سائنس کی طرف ہمارے طلباء کو زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔مستقبل کی بنیاد اب سائنس پر ہی پڑنے والی ہے اور اس طرف نو جوانوں کا متوجہ ہونا نہایت ضروری ہے۔مجھے افسوس ہے کہ مسلمان لڑکوں کو اس طرف توجہ نہیں۔یو نیورسٹی کلاس میں دو درجن کے قریب لڑکے تھے مگر اب پانچ رہ گئے ہیں اور پانچ بھی وہ جو تعلیم میں ادنی سمجھے جاتے ہیں۔اسی طرح اور کالجوں سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سائنس کی طرف مسلمان طلباء کی بہت ہی کم توجہ ہے حالانکہ اصل چیز سائنس ہی ہے اور اسی کے