انوارالعلوم (جلد 19) — Page 375
۳۷۵ تقریر جلسه سالانه ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء انوار العلوم جلد ۱۹ ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہر جگہ بیداری پیدا کریں اور اپنے اپنے چندوں کو بڑھانے کی کوشش کریں۔اس وقت حالت یہ ہے کہ قریباً ایک ثلث چندہ آ رہا ہے۔اصل میں تو زیادہ ہوگا کیونکہ بینک چیک تو ڑ کر نہیں دیتے اور کافی مقدار چیکوں کی ہمارے دفتر میں پڑی ہوئی ہے اگر اس رقم کو شامل کر لیا جائے تب بھی چندوں میں خاصی کمی رہتی ہے۔وہ قوانین جو اس بارہ میں میں نے تجویز کئے ہیں شوریٰ کے ممبروں کو بتا دیئے گئے ہیں ہر جگہ کی جماعت کو چاہئے کہ ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔مہاجرین کی آبادکاری میں نے کل مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی آبادی اور ان کی مشکلات کے متعلق کچھ امور بیان کئے تھے لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی اس بارہ میں مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔چالیس لاکھ انسانوں کی مصیبت کوئی معمولی مصیبت نہیں۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم اس مصیبت کو کس طرح دور کر سکتے ہیں۔پس جو کچھ میں نے کہا تھا اس پر میں مزید کچھ باتیں اس وقت کہنا چاہتا ہوں تا پبلک کو بھی ان باتوں کا علم ہو جائے اور حکومت کی توجہ بھی ان باتوں کی طرف پھر جائے اور پھر وہ طبقہ جو پر لیس سے تعلق رکھتا ہے اس کو بعد تحقیق میرے رائے کو صحیح سمجھے تو وہ بھی اس بارہ میں اپنے فرائض کو ادا کرنے کی طرف توجہ کرے کیونکہ چالیس لاکھ مسلمانوں کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کرنا ہر شخص کا اخلاقی فرض ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس مصیبت میں لوگ ایسے پریشان ہو گئے ہیں کہ وہ مشکلات کے عجیب عجیب حل تجویز کر رہے ہیں۔وہ حل در حقیقت ایسے ہیں جیسے کہتے ہیں کہ پرانے زمانہ میں ایک لال بجھکڑ تھا جو ہر چیز کا کوئی عجیب سا نام رکھتا اور ہر مشکل کے حل کیلئے کوئی عجیب طریق کا رتجویز کرتا۔ایک دفعہ ایک گاؤں میں کوئی عورت نئی نئی بیا ہی آئی۔ساس سسر کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور وہ دالان میں گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی کہ باہر سے کوئی شخص آیا اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک تھال تھا۔اُس نے وہ تھال آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ فلاں گھر میں شادی تھی اُنہوں نے مٹھائی کا حصہ تحفہ بھجوایا ہے وہ منہ چھپانے کیلئے ستون کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور مٹھائی کا تھال پکڑنے کیلئے اُس نے ایک ہاتھ اِدھر سے اور ایک ہاتھ اُدھر سے نکال دیا اس نے تھال ہاتھ