انوارالعلوم (جلد 19) — Page 330
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۰ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خطرہ کی سُرخ جھنڈی ہم نے پہلے بھی بعض ایسے مواقع پر حکومت اور پالک کو توجہ دلائی ہے جب کہ پاکستان کیلئے خطرہ کی صورتیں پیدا ہو رہی تھیں اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ پھر خطرہ کے بادل امڈ رہے ہیں اور ذہنوں میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔گاندھی جی نے ہندو مسلمانوں کی صلح کے لئے برت رکھا، کہنے والوں نے کہا کہ اس روزے کے وقت منہ ہندو مسلم جھگڑے کی طرف تھا اور نظریں کشمیر کے مسئلہ پر گڑی ہوئی تھیں جو کچھ کہنے والے نے کہا اُس کے آثار بھی ظاہر ہو گئے۔یو۔این۔او میں پاکستان کا پلڑا جھکتے جھکتے پھر اونچا اُٹھنے لگا اور گاندھی جی کا روزہ ہندوستان کا پلڑا جھکانے میں کامیاب ہو گیا۔گویا ایک پتھر سے گاندھی جی نے دو شکار کر لئے۔ان کے منہ کی بات بھی پوری ہوگئی اور ان کے دماغ کی بات بھی پوری ہو گئی۔گاندھی جی پر کوئی اعتراض نہیں وہ جس چیز کو اچھا سمجھیں اس کے کرنے کا اُن کو پورا حق حاصل ہے۔وہ جس تدبیر کو جائز سمجھیں اُس کے اختیار کرنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔وہ اپنی عقل سے کام لینے کے عادی ہیں اور سوچنے کی اُن کو عادت ہے۔اگر کوئی دوسرا شخص اپنی عقل سے کام نہیں لیتا اور سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا تو اس کا الزام اُس پر ہے نہ گاندھی جی پر۔بے عقل انسان ، نظمند انسان پر الزام نہیں لگا سکتا کہ تم نے اپنی عقل کے ذریعہ مجھ سے بازی جیت لی ہے۔دنیا میں مساوات کی تائید میں کتنی ہی چیخ و پکار کی جائے اور امتیازات کے مٹانے کا کتنا بھی دعویٰ کیا جائے حقیقت چھپ نہیں سکتی۔خدا تعالیٰ نے جو فرق پیدا کئے ہیں وہ قائم رہیں گے اور ضرور رہیں گے۔خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کو دماغ دیا ہے کسی شخص کا دماغ زیادہ اچھا ہے کسی شخص کا دماغ کم اچھا ہے مگر ہر شخص کو دماغ ملا ہوا ہے۔جو اپنے دماغ کو استعمال کرتا ہے وہ ضرور کچھ نہ کچھ روشنی حاصل کر لیتا ہے پیچھے رہ جائے تو رہ جائے مگر بالکل مات نہیں کھا جاتا۔گاندھی جی پر اعتراض کرنے والے