انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 331

انوار العلوم جلد ۱۹ ٣٣١ الفضل کے اداریہ جات اتنا تو سوچیں کہ وہ اپنے دماغ کو کیوں استعمال نہیں کرتے۔اب گاندھی جی کے روزہ کے نتیجہ میں چاروں طرف لوگ دوڑے پھر رہے ہیں کہ ہندو مسلمان کی صلح ہو جائے۔ہند و مسلمان کی صلح سے زیادہ اچھی چیز اور کونسی ہے۔ہندو اور مسلمان کی صلح کے بغیر ہمارا ملک جسے ہندوستان کہا جا تا تھا اور تقسیم کے باوجود اب بھی ہم اپنے ذہنوں سے اس ملک کے خیال کو بھلا نہیں سکتے کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ہم نے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم ترقی کریں گے جب تک ہندوستانی ذہنیت پیدا نہ ہوتی دو قوموں کے نظریہ کے باوجود بھی ہم اتفاق اور اتحاد سے آگے قدم بڑھا سکتے تھے۔انگلستان اور امریکہ دو تو میں ہیں مگر پھر وہ ایک ہو کر کام کر رہی ہیں۔آسٹریلیا اور کینیڈا بھی دو قومیں ہیں مگر وہ متفق ہو کر کام کر رہی ہیں۔ساؤتھ افریقہ اور انگلستان بھی دو قو میں ہیں اور قو میں بھی وہ جو ایک دوسرے کے خون میں نہا چکی ہیں مگر پھر بھی وہ متحد ہو کر کام کر رہی ہیں۔مسلمان اور ہندو دو قومیں ہی سہی اگر دو قوموں کا نظریہ انہیں الگ الگ حکومتیں بنانے پر مجبور کر رہا تھا تو ایک وطن کا نظریہ انہیں متحد ہو کر کام کرنے کی توفیق بھی دے سکتا تھا اور وہ ترقی کی طرف قدم بڑھا سکتے تھے۔اگر ہم سے کوئی پوچھتا تو ہم تو یہی کہتے کہ ہندوستان کو کامن ویلتھ کی حیثیت میں قائم کیا جائے۔برٹش کامن ویلتھ کے ممالک نے باوجود ایک دوسرے سے آزاد ہونے کے کیسی طاقت حاصل کی۔وہ ایک دوسرے کی کمزوری کا موجب نہیں بلکہ ایک دوسرے کی طاقت کا موجب ہوئے ہیں۔اگر ہندوستان میں بھی ایک کامن ویلتھ بن جاتی کوئی لکھا ہوا وفاق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تعاون کی روح کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کام کرنے کا دلی اقرار ہندوستان کی قوموں کے اندر پیدا کیا جاتا اور اسے ایک نام دے دیا جاتا تو صرف وہ نام ہی بہت سے اختلافات کے مٹانے کا موجب ہو جاتا۔صرف وہ تعاون کا اقرار ہی مل کر کام کرنے کا راستہ کھول دیتا۔برطانوی کامن ویلتھ کے ملکوں کو آخر کس چیز نے اکٹھا کیا ہوا ہے؟ کوئی تحریری معاہدہ نہیں جو ان کو ملائے ہوئے ہے۔بس ایک ارادہ ہے جب چاہیں وہ جدا ہونے کا ارادہ کر لیں مگر اس ارادے ہی نے ایک ایسی طاقت ان کو بخش دی ہے کہ باوجود جدا ہونے کے وہ ایک ہیں۔مگر وہ وقت تو گزر گیا اب بھی ہم تعاون کے ساتھ بہت کچھ کام کر سکتے ہیں لیکن جبر اور اکراہ کے ساتھ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے اور غلط تدبیریں ہمیں