انوارالعلوم (جلد 19) — Page 329
انوارالعلوم جلد ۱۹ ۳۲۹ الفضل کے اداریہ جات کی تکمیل کیلئے ایک خدائی سامان ہے اس سامان کو بیوقوفی کے ساتھ ضائع نہیں کر دینا چاہئے۔ہندوستان اور پاکستان کے اتحاد کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ دونوں طاقتوں میں سے کوئی بھی اپنی آزادی کو کھو دے۔ان آزادیوں کو قائم رکھتے ہوئے بھی یہ دونوں ملک ایک ہو سکتے ہیں اس سے بھی زیادہ ایک جتنا کہ وہ ایک ہندوستان کے وقت میں تھے اور پھر یہی قدم مزید اتحاد کے لئے رستہ کھول سکتا ہے۔ہمیں جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہئے ہمیں موجودہ صورت حالات کو تسلیم کرتے ہوئے اختلاف کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جو شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ جو اتحاد ہو وہ میری ہی پیش کردہ صورت کے مطابق ہو وہ بے وقوفی کرتا ہے اور وہ کامیاب نہیں ہوسکتا سوائے تشدد اور خونریزی کے لیکن جو شخص واقعات کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اپنے لئے ان واقعات کی روشنی میں ایک نیا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے وہ شخص اپنے نفس کی عزت نہیں چاہتا بلکہ وہ صرف یہی چاہتا ہے کہ اس کا ملک جس طرح بھی ہو ا تحاد کی راہ پر چل پڑے۔ایسے شخص کا نظریہ چونکہ خود غرضی کے ماتحت نہیں ہوتا بلکہ قومی خدمت کے اثر کے نیچے ہوتا ہے اس نظریہ کی کامیابی کے بیسیوں سامان پیدا ہو سکتے ہیں اور اس نظریہ پر عمل کر کے کامیابی زیادہ سہولت سے حاصل کی جاسکتی ہے۔پس میں پاکستان اور ہندوستان کے سر بر آوردہ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کریں جو پیدا ہو چکے ہیں اور ان دونوں ملکوں کونئی پیدا شدہ صورتِ حالات کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ متحد کرنے کی کوشش کریں۔اور ان خیالات کو ملک میں پہننے نہ دیں کہ جلد سے جلد نئے نئے کسٹمز لگائے جائیں اور پروانہ راہ داری جاری کیا جائے اور ایک دوسرے کی زبان کو کچلا جائے۔جن چیزوں کے جاری کرنے سے کوئی خاص فائدہ ملک کی آزادی کو نہیں پہنچتا ان کے جاری کرنے میں آخر کیا لطف ہے۔مسدود شدہ اتحاد کے راستوں کو کھولنا ہما را فرض ہے ان کے بند کرنے سے ہم اپنے راستے میں کانٹے بوئیں گے۔الفضل لا ہو ر ۴ / دسمبر ۱۹۴۷ء )