انوارالعلوم (جلد 18) — Page 44
انوارالعلوم جلد ۱۸ م م اسلام کا اقتصادی نظام سے اُن کی غرض محض یہ ہوا کرتی تھی کہ وہاں ناچ گانا ہواور وہ اِس سے لطف اندوز ہوں۔اِس طرح محض اپنے نفس کے ابتزاز کے لئے وہ انار و پیہ خرچ کر دیتے تھے جو اسراف میں داخل ہو جاتا تھا۔لیکن اس قسم کے باغ بنانے جیسے میونسپل کمیٹیاں تیار کروایا کرتی ہیں اور جن سے اُن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ وہاں جائیں، سیر کریں اور صحت میں ترقی کریں اسلام کی رو سے منع نہیں ہیں۔اسلام کے نزدیک اگر ایک میونسپل کمیٹی دس لاکھ روپیہ بھی اس قسم کے باغ تیار کرنے پر صرف کر دے جس سے چار پانچ لاکھ آدمی فائدہ اُٹھا سکتے ہوں تو وہ بالکل جائز کام کرے گی۔مثلاً لاہور کی آبادی 9 لاکھ ہے اگر لاہور کی میونسپل کمیٹی متعدد پارک بنانے پر لاکھوں لاکھ روپیہ خرچ کر دے تو چونکہ نو لاکھ کی آبادی یا اس آبادی کی اکثریت اس سے فائدہ اُٹھائے گی اس لئے روپیہ کا یہ مصرف بالکل جائز سمجھا جائے گا بلکہ اگر ایک لاکھ آدمی بھی اِس سے فائدہ اُٹھا ئیں گے تو یہ سمجھا جائے گا کہ میونسپل کمیٹی نے ایک آدمی کی صحت کے لئے چار یا پانچ روپے صرف کئے اور یہ بالکل جائز ہوگا۔لیکن اگر ایک بادشاہ اپنے لئے یا اپنے بیوی بچوں کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے ایک باغ تیار کراتا ہے اور اُس میں دوسروں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اُس نے ایک ایک نفس پر لاکھ لاکھ یا دو دو لاکھ روپیہ خرچ کر دیا حالانکہ اگر وہی ایک لاکھ یا دولاکھ یا تین لاکھ یا چار لاکھ روپیہ عام لوگوں کے لئے خرچ کیا جاتا تو لاکھوں لوگ اس سے فائدہ اُٹھاتے اور اُن کی صحت پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر جاتی۔پس اسلام جائز ضروریات پر روپیہ صرف کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اس امر سے روکتا ہے کہ روپیہ کو صحیح طور پر استعمال نہ کیا جائے اور بنی نوع انسان کے حقوق کو تلف کر کے ناجائز فائدہ اُٹھایا جاوے۔اگر ایک دفتر بنانے کا سوال ہو اور ہزاروں لوگوں کے لئے کمروں کی ضرورت ہو تو خواہ ہیں منزلہ مکان بنالیا جائے اور اُس میں سینکڑوں کمرے ہوں اسلام کی رو سے بالکل جائز ہو گا لیکن وہ لوگ جو بلا وجہ اپنی ضرورت سے زائد کمرے بنوا لیتے ہیں محض اس لئے کہ لوگ اُن کو دیکھیں اور تعریف کریں قرآن کریم کے رو سے وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتے ہیں اور اسلام اُسے اسراف قرار دیتا ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پکڑے گا اور اُس سے جواب طلب کرے گا کہ اُس نے کیوں وہ روپیہ جو بنی نوع انسان کی خدمت یا اُن کی ترقی