انوارالعلوم (جلد 18) — Page 45
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام کے سامانوں پر صرف ہوسکتا تھا اس رنگ میں ضائع کیا اور ملک اور قوم کی اقتصادی حالت کو نقصان پہنچایا۔دور کیوں جائیں تاج محل ہمارے گھر کی مثال ہے مجھے خود وہ بہت پسند ہے اور میں اُسے دیکھنے بھی جایا کرتا ہوں لیکن اسلامی اقتصاد کے لحاظ سے تاج محل کی تعمیر پر نا جائز طور پر روپیہ صرف کیا گیا ہے۔تاج محل آخر کیا ہے؟ ایک بہت بڑی شاندار عمارت ہے جو محض ایک عورت کی قبر پر زینت کے لئے بنائی گئی اور اُس پر کروڑوں روپیہ صرف کیا گیا۔اگر وہی روپیہ صدقہ وخیرات پر صرف کیا جاتا یا غرباء کے لئے کوئی ایسا ادارہ قائم کر دیا جاتا جس سے لاکھوں مساکین ، لاکھوں یتیم ، اور لاکھوں بے کسی ایک مدت دراز تک فائدہ اُٹھاتے چلے جاتے اور وہ اپنے کھانے اور اپنے پینے اور اپنے پہننے اور اپنے رہنے کے تمام سامانوں کو حاصل کر لیتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔بے شک جہاں تک عمارت کا سوال ہے، جہاں تک انجنیئرنگ کا سوال ہے تاج محل کی ہم تعریف کرتے ہیں اور اُسے دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں لیکن جہاں تک حقیقت کا سوال ہے ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس قسم کی عمارتیں جو بعض افراد محض اپنے نام و نمود کے لئے یا نمائش کے لئے دنیا میں تیار کرتے ہیں اسلامی نقطہ نگاہ سے ناجائز ہیں۔لیکن وہ عمارتیں جو قوم کے لئے یا پبلک کے مفاد کے لئے یا ایسی ہی اور ضروریات کے لئے تیار کی جاتی ہیں وہ خواہ کتنی ہی بلند ہوں جائز کہلائیں گی۔غرض بلا ضرورت اونچی عمارات بنانا ، زینت اور تفاخر کے طور پر باغات تیار کروانا ، کھانا زیادہ مقدار میں کھانا یا بہت سے کھانے کھانا ، لباس وغیرہ پر غیر ضروری رقوم خرچ کرنا ، گھوڑے اور موٹریں ضرورت سے زیادہ رکھنا، فرنیچر وغیرہ ضرورت سے زیادہ بنوانا ،عورتوں کا لیس اور فیتوں وغیرہ پر زیادہ رقوم خرچ کرنا ان سب امور سے قرآن کریم اور احادیث میں منع کیا گیا ہے اور اس طرح مال کمانے کی ضرورتوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔اسی طرح مال اور دولت کی وجہ سے سیاسی اقتدار کیلئے روپیہ خرچ کرنا ! کسی کو سیاسی اقتدار دینے سے بھی اسلام نے منع فرما دیا ہے۔میں اس بارہ میں بیان کر چکا ہوں کہ قرآن کریم کا یہ صریح حکم ہے که آن تُؤَدُّوا الآمنت إلى أهلها اے کہ تم حکومتیں انہیں لوگوں کے سپر د کیا کر و جو حکومت کے کام کے اہل ہوں محض کسی کے مال یا اُس کی دولت کی وجہ سے اُس کو سیاسی اقتدار دے دینا