انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 43

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۳ اسلام کا اقتصادی نظام کے قریب سالانہ خرچ سینما کا ہو جاتا ہے اور اگر سینما کے لوازمات کو بھی شامل کیا جاوے کہ ایسے لوگ بالعموم شراب خوری اور ایک دوسرے کی عیاشانہ دعوتوں میں بھی روپیہ خرچ کرتے ہیں تو بچھپیں تمہیں کروڑ روپیہ سے زائد خرچ سینما اور اس کے لوازمات پر اُٹھ جاتا ہے اور یہ رقم حکومت ہند کی آمد کا ۱/۴ حصہ ہے۔گویا صرف سینما پر اس قدر خرچ اُٹھتا ہے کہ جو سارے ملک پر سال میں ہونے والے خرچ کا ایک چوتھائی ہے۔حالانکہ اِس کا کوئی بھی فائدہ نہ مُلک کو ہوتا ہے نہ قوم کو ہوتا ہے اور نہ خود سینما دیکھنے والوں کو ہوتا ہے۔قرآن کریم اس قسم کے تمام راستوں کو بند کرتا ہے اور فرماتا ہے مومن وہی ہیں جو اس قسم کے لغو کاموں سے احتراز کریں اور اپنی کمائی کا ایک پیسہ بھی ان پر ضائع نہ کریں۔یورپ کی آزادحکومتیں جو اپنی اقتصادی ترقی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتی رہتی ہیں اُن کی تو یہ حالت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سینما اور تھیٹر بناتی ہیں۔جتنے سنیما گھر آج انگلستان میں ہیں جنگ کے بعد یقیناً ان میں زیادتی کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ سینما کم ہیں سینکڑوں اور سینما گھر بنائے جائیں۔تا کہ وہ لوگ جو سینماؤں کی کمی کی وجہ سے اس تعیش سے محروم ہیں وہ بھی اس میں حصہ لے سکیں اور اُن کی دولت اور اُن کا وقت بھی اِس پر صرف ہو۔لیکن اسلام قطعی طور پر ان تمام چیزوں کو جو بنی نوع انسان کے لئے مفید نہیں بند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔اگر اسلام کے ان احکام پر پوری طرح عمل کیا جائے تو امراء کی ظاہری حالت بھی ایک حد تک مساوات کی طرف لوٹ آئے کیونکہ ناجائز کمائی کا ایک بڑا محرک نا جائز اور بے فائدہ اخراجات ہی ہوتے ہیں۔اسلام میں اسراف کی ممانعت دوسرے اسلام نے اسراف سے منع کیا ہے جس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ گوخرچ کا محل تو جائز ہو مگر خرچ ضرورت سے زیادہ ہو۔مثلاً اونچی اونچی عمارات بنانا یا زینت اور تفاخر کے طور پر باغ اور چمن تیار کرانا۔ایک باغ ایسے ہوتے ہیں جو پھلوں کے لئے تیار کئے جاتے ہیں ایسے باغ بنانا اسلام کے رو سے منع نہیں ہیں لیکن بعض باغ اس قسم کے ہوتے ہیں جن کی غرض محض نمائش یا عیاشی ہوتی ہے۔جیسے پُرانے زمانہ میں بعض بادشاہ بڑے بڑے باغ تیار کرایا کرتے تھے جن