انوارالعلوم (جلد 18) — Page 625
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲۵ ایک آیت کی پر معارف تفسیر اُس کو موت نظر آتا تھا ۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان حالات کی موجودگی میں ہم کیوں نہ تمہاری مدد کرتے یہ معنی کرنے سے یہ آیت کتنی واضح اور صاف ہو جاتی ہے اور اس پر ان معنوں کی رو اض بھی وارد نہیں ہو سکتا ۔ علامہ ابو حیان کی خواب تو ٹھیک ہے مگر نَصْرُک علی اعد آئک ہونا چاہئے تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرا اپنا کوئی ارادہ نکلنے کا نہ تھا، دوست تمہیں نکلنے سے روکنا چاہتے تھے اور دشمن تم کو میری وجہ سے تباہ کرنا چاہتا تھا اس لئے میری ذمہ داری تم کو غلبہ دینے کی بحیثیت ایک دوست کے بھی تھی اور دشمن کی دشمنی کی وجہ سے بھی ہم نے یہ ذمہ داری پوری کر دی ہم تجھے خطرہ کے مقام پر لے بھی گئے اور صحیح سلامت واپس لا کر اور تجھے دشمن پر غلبہ دے کر اپنی ذمہ داری بھی پوری کر دی ۔ میں نے شروع میں کہا تھا کہ ان آیات کا تعلق اس زمانہ سے بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ مؤمن کس طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے جہاں ایک مؤمن پُر امن ہوتا ہے اور وہ لڑائی اور فسادات سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرتا ہے وہاں وہ دلیر بھی اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔ یہی دو چیزیں ہیں جو مؤمن کو دوسروں سے ممتاز کر دیتی ہیں یعنی اول یہ کہ وہ لڑائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ لڑائی اور فساد نہ ہونے پائے بلکہ امن وامان رہے ۔ دوسرے اس کی لڑائی سے بچنے کی تمام کوششوں کے باوجود اگر اس کے لئے جنگ ناگزیر ہو جائے تو اس جیسا بہادر ، نڈر اور دلیر بھی کوئی نہیں ہوتا مگر یا درکھنا چاہئے کہ دلیری کے یہ معنی نہیں کہ مؤمن تہور پر عمل پیرا ہو جائے ۔ تہورا یسے حملہ کو کہتے ہیں جیسے سو رحملہ کرتا ہے اس کو جرات نہیں کہہ سکتے جرات یہ ہوتی ہے کہ مؤمن لڑائی سے حتی الامکان گریز کرے، جھگڑا اور فساد نہ ہونے دے لیکن اگر دشمن اس کو لڑائی کے لئے مجبور کر دے تو وہ اس شان سے لڑے کہ سو سو میل تک لوگ اس سے کانپنے لگ جائیں ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ یعنی میری اللہ تعالیٰ نے رُعب سے نصرت فرمائی ہے اسی طرح آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک مہینے کے سفر تک رُعب عطا فرمایا ہے ہے پہلے زمانہ کے لحاظ سے ایک مہینہ کا سفره ۲۷ میل بنتا ہے کیونکہ عام طور پر اس زمانہ میں ایک منزل ۹ میل کی شمار کی جاتی تھی در حقیقت مکہ مکرمہ مدینہ سے اتنے ہی فاصلہ پر ہے اور رسول کریم ﷺ کے اس قول کا یہ