انوارالعلوم (جلد 18) — Page 626
۶۲۶ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر انوارالعلوم جلد ۱۸ مطلب ہے کہ میں مدینہ میں بیٹھا ہوا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رعب عطا فرمایا ہے کہ مکہ والے گھر بیٹھے مجھ سے کانپ رہے ہیں مگر چونکہ نبیوں کی پیشگوئیاں ہر زمانہ کے حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں اور یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ہوا ہے اس لئے پُرانے زمانہ میں تو اس سے مراد بے شک ۲۷۰ میل ہی تھے مگر آجکل تیز رفتار سواریاں آئی ہیں جو ایک ایک دن بلکہ ایک ایک گھنٹہ میں سینکڑوں میل کا سفر طے کر لیتی ہیں اس لئے آجکل تو ایک ماہ کا سفر ساری دنیا پر حاوی ہو گا اب ہم اس کو دوسرے رنگ میں لیں گے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا رعب دینے والا ہے کہ ساری دنیا آپ کے رُعب کی وجہ سے کانپے گی اور آپ کے انہی غلاموں کے ہاتھ سے جن کو اس وقت لوگ چڑیا سمجھ رہے ہیں کیا انگلستان اور کیا امریکہ ، کیا روس اور کیا جرمنی ، کیا افریقہ اور کیا چین اور جاپان سب مما لک فتح ہوں گے اور تمام ملک ان سے اس طرح کا نہیں گے جیسے گھاس ہوا سے کانپتا ہے۔ہم تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کر رہے ہیں اور شاگرد کی چیز اپنی نہیں ہوتی بلکہ استاد کی ہوتی ہے اس لئے ہماری فتح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح ہوگی۔آج تو یہ حالت ہے کہ لوگ اسلام پر حملہ کرنا اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں لیکن ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے بلکہ ابھی آپ لوگوں میں سے کئی زندہ ہوں گے کہ لوگ دیکھیں گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ساری دنیا پر قائم ہو رہی ہے اور اسلام کے مخالف دم مارنے کی جرات نہیں کرسکیں گے مگر اس کے لئے ہمیں صحابہ والی قربانیاں بھی کرنی ہوں گی۔پس ہماری جماعت کے دلوں سے موت کا ڈر بالکل اُٹھ جانا چاہئے ایک مؤمن کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ پہلے وہ خود کسی پر ہاتھ نہ اُٹھائے اور حتی الوسع جنگ اور فسادات سے بچنے کی کوشش کرے وہاں اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اگر حالات اس قسم کے پیدا ہو جائیں کہ اس کے لئے لڑائی کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت وہ وقت لے آئے تو مومن کو یوں معلوم ہونا چاہئے جیسے عید کا چاند نکل آیا۔ان آیات میں مؤمن کا مقام بیان کیا گیا ہے کہ مؤمن یہ سمجھتا ہے کہ ساری بکا ،ساری تکلیفیں اور ساری مصیبتیں مجھ پر وارد ہو جائیں لیکن میرا محبوب کسی طرح ان سے بیچ رہے۔اب چونکہ ہمارا محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں نہیں ہے اس لئے ہمارے