انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 624

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲۴ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر ان واقعات کو اچھی طرح جانتے ہیں تو کیا خدا نَعُوذُ بِاللهِ ان واقعات کو نہ جانتا تھا وہ جانتا تھا اور یقیناً جانتا تھا اور اس نے كَرِهُونَ ان معنوں میں استعمال نہیں فرمایا جن میں بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کرِهُونَ کی ضمیر آخر جت کی طرف جاتی ہے یعنی صحابہ آپ کے لڑائی پر جانے سے ڈرتے اور گھبراتے تھے۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسان یا تو اپنے ارادہ سے کوئی کام کرتا ہے اور یا اپنے ساتھیوں کے ارادہ اور مشورہ سے کوئی کام کرتا ہے جب وہ خود اپنے ارادہ سے کوئی کام کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ اپنے ارادہ سے فلاں کام کر رہا ہے اور اگر وہ اپنے ساتھیوں کے ارادہ سے کوئی کام کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اس نے ساتھیوں کے مشورہ سے فلاں کام کیا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس وقت حالت یہ تھی کہ تمہارا اپنا بھی مدینہ سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور تمہارے ساتھی بھی تمہیں مشورہ دیتے تھے کہ تم خطرہ میں نہ پڑو اور تمہارا مدینہ سے نکلنا صرف ہمارے حکم کے ماتحت تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تمہارا اپنا بھی نکلنے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور تمہارے ساتھیوں کا بھی مشورہ یہی تھا کہ تم مدینہ سے نہ نکلو تا کہ آپ کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے تو کیا میں جو قادر مطلق خدا ہوں تم کو دشمنوں پر غلبہ نہ دیتا جب کہ میں نے تمہارے ارادہ کے خلاف اور تمہارے ساتھیوں کے مشورہ کے خلاف تمہیں باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا۔اب جیسا کہ علامہ ابو حیان نے بھی لکھا ہے کہ یہاں نَصْرُكَ محذوف ہے تو یہ نَصْرُكَ کی ضمیر دشمن کی طرف ہی جائے گی دوست کی طرف نہیں جا سکتی۔کیا ہم نصری کے یہ معنی لیں گے کہ صحابہ پر غلبہ؟ غلبہ تو ہمیشہ دشمن پر ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارا تم کو غلبہ عطاء کرنا دو وجوہ سے تھا۔ایک تو یہ کہ ہم نے چونکہ خود تم کو نکلنے کا حکم دیا تھا اس لئے ہمارے لئے ضروری تھا کہ تمہیں دشمن پر غلبہ دیتے ، دوسرے چونکہ تمہارے ساتھی یعنی صحابہ اس بات میں راضی نہ تھے کہ تو لڑائی کے لئے نکلے اس لئے ہم ان کو بھی بتانا چاہتے ہیں کہ اگر میں کسی خطر ناک کام کا حکم دیتا ہوں تو بچا تا بھی ہوں اور ادھر تیرا دشمن وہ تھا جو يُجَادِلُونَكَ في الحق کا مصداق تھا یعنی اُس کو تیرے کسی اپنے کام کی وجہ سے تجھ سے دشمنی نہ تھی بلکہ وہ صرف اس لئے تیرا دشمن تھا کہ تو ہما را حکم اُن کو پہنچاتا ہے اور ہماری طرف اُن کو بلاتا ہے اور دشمن کو تیرے ساتھ اتنی زیادہ دشمنی تھی کہ وہ حق کے غلبہ کو اپنی موت کے مترادف سمجھتا تھا یعنی وہ ہماری خاطر تجھ سے دشمنی کر رہا تھا اور اسلام رض