انوارالعلوم (جلد 18) — Page 623
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲۳ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر دلالت کرتا ہے یعنی صحابہؓ اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ آپ لڑائی میں شریک ہوں اور وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں آپ کو کوئی گزند نہ پہنچ جاے۔ میں نے ایک واقعہ پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ جنگِ اُحد میں ایک موقع پر ابی بن خلف صلى الله عروسه نے جو کہ مکہ کا بہت بڑا رئیس تھا جب آواز دی کہ کہاں ہے محمد ( ﷺ ) ؟ وہ شخص بہت بڑا جرنیل تھا اور ساتھ ہی وہ تیر انداز بھی اعلیٰ درجہ کا تھا جب اس نے پکارا کہ کہاں ہے محمد ؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف بڑھنا چاہا مہاجرین چونکہ ابی بن خلف کی طاقت کو جانتے تھے اس لئے وہ آپ کے سامنے آگئے اور عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! ہماری موجودگی میں آپ آگے نہ جائیں آپ نے بڑے جوش سے فرمایا میرے راستہ سے ہٹ جاؤ مہاجرین نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! وہ بڑا تجربہ کار جنگجو ہے آپ نے فرمایا مجھے اس کی پرواہ نہیں تم میرے رستہ سے ہٹ جاؤ ۔ اس واقعہ سے بھی پتہ لگتا ہے کہ صحابہؓ کے لئے کرِ ھون کے لفظ کا مطلب کیا ہے؟ غرض آپ ابی بن خلف کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنے نیزہ کی اپنی اس کے جسم میں چھو دی جس سے اسے تھوڑا سا زخم ہو گیا اور وہ اتنے زخم سے ہی بھاگ نکلا ۔ لوگوں نے کہا تم تو بڑے بہادر بنتے تھے اور یہ چھوٹا سا زخم کھا کر بھاگ رہے ہو اس نے کہا زخم تو چھوٹا ہے مگر مجھے یوں معلوم ہو رہا ہے کہ اس میں دنیا جہان کی آگ بھر دی گئی ہے۔ اللہ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کس بات کو نا پسند کرتے تھے ۔ لگے تو اسی طرح حضرت طلحہ کا واقعہ ہے کہ جب جنگِ اُحد میں دشمن کی طرف سے تیر برسنے۔ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے اپنا ہاتھ رکھ دیا تا کہ آپ کے چہرہ پر صلى الله کوئی تیر نہ لگنے پائے ۔ ان کے ہاتھ پر اتنے تیر لگے کہ آخر ان کا ہاتھ شل ہو کر ہمیشہ کے لئے صلى الله بیکار ہو گیا رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد خوارج انہیں ٹنڈا کہا کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت طلحہ سے کسی نے پوچھا کہ جب آپ کے ہاتھ پر تیر لگتے تھے تو کیا آپ کے منہ سے کسی نہ نکلتی تھی کیونکہ زخم سے سے درد تو ضرور ہوتی ہے؟ حضرت طلحہ نے جواب دیا سی نکلنا تو چاہتی تھی مگر میں نکلنے نہ دیتا تھا تا کہ میری ذراسی حرکت سے بھی رسول کریم ﷺ کے چہرہ پر کوئی تیر نہ لگ جائے ۔ اب کیا ان صحابہ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ان کو لڑائی کے بارہ میں انقباض تھا۔ جب ہم