انوارالعلوم (جلد 18) — Page 622
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲۲ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر ایک غزوہ میں قتل ہوا تھا اس کے بھائی عا مر حضر می کو بلایا اور نہایت اشتعال انگیز الفاظ میں اس کو کہا اب جبکہ تمہارے مقتول بھائی کے بدلہ کا موقع آیا ہے تو لوگ مشورہ دے رہے ہیں کہ لڑنا نہیں چاہئے۔یہ سُن کر عامر حضرمی کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق اپنے کپڑے پھاڑ کر اور نگا ہو کر رونا اور چلا نا شروع کر دیا کہ ہائے افسوس! میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے۔پھر عامر نے اپنے بھائی کا نام لے کر کہا۔ہائے افسوس ! تو نے اپنی زندگی میں قوم کے لئے اتنی قربانیاں کی تھیں مگر آج کوئی نہیں جو تیرے قتل کا بدلہ لے۔جب عامر نے اس قسم کا نوحہ کیا تو لشکر قریش کو غیرت آ گئی اور انتقام کی آگ کے شعلے اُن کے سینوں میں بھڑک اُٹھے۔اس کے علاوہ لڑائی سے پیشتر عتبہ بن ربیع نے بھی قریش کو نصیحت کی کہ یہ مسلمان اور ہم آخر بھائی بھائی ہیں اور پھر دیکھو تو ان کے چہروں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ یہ مرنے کے لئے آئے ہیں اور اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ تم بھی ان کے برا بر ہی آدمی مارلو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار سب مارے جائیں گے۔اب کیا ان حالات کی موجودگی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرِهُونَ کی ضمیر لڑائی کی طرف جاتی ہے، جہاں تک واقعات کا تعلق ہے یہ بات اس کے بالکل الٹ نظر آتی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جب لڑائی کے لئے جگہ کا انتخاب ہو چکا تو وہی سعد بن معاذ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم آپ کے لئے ایک عرشہ بنا دیں اور اپنی تیز تر سواریاں وہاں باندھ دیں يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم نہیں چاہتے کہ آپ میدانِ جنگ میں خود بنفس نفیس تشریف لے جائیں۔ہم خدا کا نام لے کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں اگر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں فتح دی تو یہی ہماری آرزو ہے اور اگر ہم مارے گئے تو آپ سواری لیکر جس طرح بھی ہو سکے مدینہ پہنچ جائیں وہاں ہمارے ایسے بھائی موجود ہیں جو گولڑائی میں تو شریک نہیں ہو سکے مگر محبت اور اخلاص میں ہم سے کسی طرح کم نہیں ہیں اور وہ لڑائی میں صرف اس لئے نہیں آئے کہ اُن کو لڑائی کے متعلق علم نہ تھا ورنہ وہ ہرگز پیچھے نہ رہتے۔يَا رَسُولَ اللهِ ! وہ آپ کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں تک لڑا دیں گے۔واپس یہ تھا خوف جو صحابہ کو تھا۔یعنی رسول کریم یہ جنگ میں شریک نہ ہوں اور كَرِهُونَ کا لفظ صراحتاً عَلَى خُرُوجِكَ پر